غسل میں 3 مرتبہ کیا جسم دھونا ضروری ہے

سوال پوچھا جاتا ہے کہ غسل کےاندر بدن کو تین مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ یا ایک دفعہ دھونےسے گزارا ہوجائےگا۔ اس کا جواب کچھ یوں ہے ۔ اگر کوئی شخص غسل کررہا ہے یاوضوکررہا ہے دونوں کےلیے مسئلہ ایک ہے دیکھیں غسل کے اندر تین دفعہ بدن کو دھونا ضروری نہیں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اگر آپ

غسل کررہے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ آپ کا جو بدن کا حصہ ہے۔کوئی خشک نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تین دفعہ اس لیے کہاگیا ہے۔ تاکہ آپ کے جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے یعنی کہ جو پورا حق ہے وہ ادا ہوجائے۔ اگر پہلی دفعہ سے آپ نے پانی گرایا ہے۔ تووہ جسم کاخشک حصہ سوکھا رہ گیا ہے۔ دوسری گرایا ہے تو وہ ادا ہوجائے۔ یعنی کہ دوسری دفعہ گرایا ہے تو ہو سکتا ہے وہ حصہ جوخشک رہ گیا تھا وہ دھل جائے۔ دوسری ، تیسری دفعہ اگر آپ غسل کررہے ہیں۔ غسل کے اندر آپ نے تین دفعہ دھو لیا ہے۔ تو تین دفعہ دھونے سے بھی آپ کا جسم خشک ہے۔ توآپ نے اس وقت تک جسم کو دھونا ہے۔ پانی ڈالنا ہے جب تک آپ کے جسم کا سارا حصہ نہ دھل ہوجائے ۔ سارا حصہ گیلا نہ ہوجائے۔ اگر ایک دفعہ کے ڈالنےسے سارا حصہ خشک نہیں ہے۔ تو ایک ہی دفعہ پانی ڈالنے سے آپ کا غسل ہوجائےگا۔ اگر تین دفعہ ڈالنے سے آپ کا جسم خشک رہ گیا ہے۔ توبھی آپ کا غسل نہیں ہوگا۔ مخصوص جسم پر پانی بہانا ہے چاہے وہ ایک دفعہ سے حاصل ہو۔ چاہے وہ دفعہ سے حاصل ہو۔ اگر آپ مقصود آپ کو ایک دفعہ سے حاصل ہوجاتا ہے۔ تو ایک دفعہ ڈال دے۔ اگر تین دفعہ سے حاصل ہو تو تین دفعہ ڈال لے۔ تین دفعہ احتیاطً کہاجاتا ہے تاکہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.