حدیث نبوی ان گیارہ اوقات میں مانگی

ہم آپ کو بتا ئیں گے کہ کیا آپ جانتے ہیں وہ کون کون سے اوقات ہیں جن اوقات میں دعا اللہ تعالیٰ لازمی قبول فر ماتے ہیں دعا اللہ اور بندے کے درمیان کا وہ تعلق ہے جو کہ انسان کے اللہ پر یقین اور اعتماد نہ صرف اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو روحانی طور پر سکون اور یقین

کے طاقت کے سرفراز کرتا ہے دعا درحقیقت انسان کا اللہ سے و کلام ہوتا ہے جو وہ دنیا کے دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں کر پاتا اللہ کی بارگاہ میں انسان کی جانب سے سوال اٹھانا ہمیشہ بہت قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت خوش ہوتا ہے کہ انسان اس کے سامنے دستِ دعا دراز کرتے تا کہ اپنی رحمتوں اور بر کتوں سے نواز سکے۔ دعا انسانی زندگی کی بہت ہی بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا انسا ن کو جتنا جلدی علم ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے کیو نکہ اس حقیقت سے انسان کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ دعا کی ایک صورت اللہ کی ان نعمتوں اور برکتوں کا شکر بھی ہوتی ہے جو کہ بندہ اس خالقِ حقیقی کا عطا کرتا ہے جس سے اس کو بن مانگے نوازا گیا ہے دعا مانگنےکا حکم بار بار قرآنی آیات اور احادیث سے ثابت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے انسانی کی رہنمائی بھی کی ہے کہ کن کن اوقات میں مانگی جانی والی دعا اللہ کی بارگاہ میں لازمی قبولیت کے درجے

سے سرفراز ہوتی ہے ۔ ان اوقات سے متعلق رہنمائی مختلف احادیث میں موجود ہوتی ہے۔ تو چلیے آج ہم آغاز کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ کو ن سے مختلف اوقات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتے ہیں۔ ویسے تو ہر وقت میں مانگی جانے والی دعا اللہ قبول فرماتے ہیں مگر کچھ اوقات خاص ہیں جو کچھ احادیث سے ثابت ہیں جیسے کہ تہجد کے وقت میں مانگی جانے والی اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں اور صحیح بخاری میں اس کا پتہ ملتا ہے کیونکہ تہجد کا وقت اللہ تعالیٰ کو بہت ہی زیادہ پسند ہے ۔ اس وقت انسان اپنی عزیز ترین چیز نیند کو قربان کر کے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے لہٰذا نہ صرف اس کی دعا کو سنتا ہے بلکہ قبول بھی کرتا ہے اور سجدے کی حالت میں مانگی جانے والی دعا یہ بھی صحیح مسلم کی احادیث میں موجود ہے کہ جب انسان اللہ کی بارگاہ میں اپنی پیشانی جھکا تا ہے ۔ تو اس میں اپنا آپ اللہ کے حوالے کر دیا اللہ کو انسان کی یہ عاجزی بہت پسند ہے لہٰذا اس وقت مانگی جانے والی دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ اور تیسرا اذان اور اقامت کے دوران کہ جس وقت اذان کی آواز آپ کے کانوں تک پہنچتی ہے تو اس کا سننا اور جواب دینا لازم ہے کیو نکہ اسی دوران ایک پل ایسا بھی ہے جس میں مانگی جانے والی لازمی قبول ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.