نوجوانوں کو نصیحت اپنی بیوی کی آنکھوں کا تارہ بنو

اپنے گھر کو مت توڑیئے اللہ کے رسول کے فرمان کو سمجھئے خیرکم خیرکم لاھلی وانا حیرالاھلی لوگو تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے معاملے میں بہترین ہے میں اپنی بیوی کے معاملے میں بہت بہتر ہو اللہ کے رسول ﷺ کیسے بہتر تھے آج اتفاق سے جوائنٹ فیملی ہوتی ہے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں

اللہ ان کو وسعتوں سے نواز دے اگر بیوی آواز دے دے کہ یہ چیز مجھے پکڑا دو تو اس بیچارے کو دائیں بائیں دیکھنا پڑتا ہے کہ ماں تو نہیں دیکھ رہی اور بہن بھائی تو نہیں دیکھ رہی وگرنہ اگر میں نے اس کی بات کو مان لیا تو لوگ کہیں گے اور سب سے پہلے گھر سے ہی آواز اُٹھے گے ہمیں پہلے ہی پتہ تھا کہ اس نے شادی کے بعد رن مرید ہی بننا ہے اللہ کے رسول کی زوجہ مطہرہ سے پوچھ رہے ہیں اسود ؓ اچھا یہ بتائیے اللہ کے رسول ﷺ گھر میں کام کیاکرتے تھے۔ تو آپﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ہم نو بیویاں خدمت تو کرتی تھی لیکن محسوس یوں ہوتا تھا کہ اللہ کے رسول ہماری خدمت کرتے ہیں اس لئے حسن معاشرت کرنا یہ کامیابی ہے لوگوں کی آنکھوں کا تارہ تو ہر کوئی بن سکتا ہے اصل تارہ وہی ہوتا ہے جو اپنی بیوی کی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے اس کی بیوی سمجھتی ہے یہ میرے لئے نعمت ہے یہ واقعی بے مثال انسان ہے اللہ ذوالجلال توفیق نصیب فرمائے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے ارشاد فرماتے ہیں: عائشہؓ ! تمہاری خوشی و مسرت اور غم و غصہ اور ناراضگی کا مجھے علم ہوجاتا ہے،مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ تم مجھ سے خوش ہو یا ناراض ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی وہ کس طرح ؟آپ نے فرمایا : جب تم

مجھ سے خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت”ربِ محمد ﷺ”کہتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو “ربِ ابراہیم” کہتی ہو۔ ایک مرتبہ نبی رحمت نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا: جس طرح ابی زرع ، ام زرع سے پیار و محبت کرتے ہیں۔ ا سی طرح میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا : اے اللہ کے نبی !میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ آپ میری نگاہ میں ام زرع کیلئے ابوزرع سے زیادہ محبوب و عزیز ہیں۔اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کو بیوی کے سامنے محبت اور وفاداری کا اظہار کرنا چاہئے اور اسے پیار بھرے لہجے سے پکارنا چاہئے۔آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو عائشہؓ کی بجائے پیار سے عائش کہہ کر بلاتے اور فرماتے: اے عائشؓ! حضرت جبرئیل امین تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ بسا اوقات آپ انہیں حمیراء کہہ کر متوجہ فرماتے تھے ۔حمیراء ، حمراء کا مخفف ہے ۔مراد گوری رنگت ہے۔رسو ل اللہ اپنی ازواج کیساتھ کھانا تناول فرماتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں اور آپ ا یک ساتھ کھانا تناول فرماتے، جس پیالے میں مَیں پانی نوش کرتی اسی پیالہ میں پانی آپ کو پیش کردیتی ، آپ پیارسے اسی جگہ سے پانی نوش فرماتے جس جگہ میرے ہونٹ لگے ہوتے۔ اسی طرح ہڈیوں کو اسی جگہ سے چوستے جس جگہ سے میرا منہ لگا ہوتاتھا۔حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب

آپ دولت کدہ پر تشریف فرما ہوتے تو میں آپ کے سر میں کنگھی کرتی تھی حالانکہ میں مخصوص ایام سے گزررہی ہوتی تھی. لیکن آپ میرے مخصوص ایام کی وجہ سے کراہت محسوس نہیں فرماتے تھے ۔اسی طرح وہ فرماتی ہیں کہ مخصوص ایام میں بھی آپ میری گود میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرماتے تھے ۔ کبھی کبھار (چاندنی راتوں )میں رسول اکرم حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ چہل قدمی کرنے نکل جاتے تھے۔ راتوں کو آپ اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ خوش گپیاں فرماتے تھے۔محسن انسانیت دولت کدے پر ازواج مطہرات کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور ان کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک صحابیؓ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے دریافت فرمایا کہ آپ جب گھر پر تشریف فرما ہوتے تو ان کی کیا مصروفیت ہوتی تھیں؟تو انہوں نے فرمایاکہ آپ اپنی ازواج مطہرات کے کاموں میں شریک ہوتے تھے ۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ جب گھر تشریف فرما ہوتے تو اپنا کام خود انجام دیتے ، اپنا کپڑے سیتے ، بکریاں دوہتے اوراسی طرح دوسرے کام بھی انجام دیتے تھے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.