انسان نیک ہو نماز ی ہو ذکر اور وظائف بھی کرتا ہو لیکن مشکلات میں پھنس جائے۔

ایک بندہ ہے تو نیک لیکن مصیبت میں آگیا سبب کیا ہے اصل میں اللہ مالک الملک اس کے گناہ معاف کرنا چاہتے ہیں ہوسکتا ہے کثرت اشغال کی وجہ سے اسے توبہ کا موقع نہیں مل رہا ساتھ ساتھ کمی کوتاہی بھی ہو رہی ہے نیکیاں بھی کررہا ہے اور انسان سے تو ہر وقت ہی کمی کوتاہی ہوتی ہے انسان تو

غلطی کاپتلا ہے کل بنی آدم خطا وخیر الخطائین التوابون انسانیت کا ہر فرد گناہگار ہے لیکن بہترین وہ ہے جو توبہ کر لے مالک الملک یہ دکھ پریشانیوں و مصیبت بیماری کیوں ڈالتے ہیں تا کہ اس کے گناہوں کا کفار ہ بن جائیں ارشاد ربانی ہے جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے اور اللہ کا حکم کیوں ہوتا ہے صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے انسان کو کوئی دکھ آئے کوئی غم آئے کوئی بیماری آئے کوئی فکر لاحق ہوئی یا تھکاوٹ ہی ہوجائے یا اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے مالک الملک ان سب چیزوں کے بدلے اس کے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں ۔ان مصائب کو انگیز کرنے اور ان کو آسان تربنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مومن کے لیے ہر وقت یہ تصور پیشِ نظر رہے کہ یہ دنیادار الامتحان ہے، یہ دارالقرار یا دارالبقا (دائمی گھر) نہیں ہے، یہ عمل کی جگہ ہے اور آخرت دارالجزاء ہے، وہاں بدلہ ملے گا، مزدور صبح سے شام تک، کسان بویائی سے لے کر کٹائی تک تمام تکالیف، سردی کی شدت، دھوپ کی حدت، اور عمل کی محنت اس لیے برداشت کرتا ہے کہ مزدور کو شام ڈھلنے پر اجرت کی امید اور کسان کو کٹائی کے وقت پھل کی توقع ہوتی ہے، مومن بھی دین پر عمل کی راہ میں مصائب کی بھٹیوں میں اپنے آپ کو اس لیے جلاتا ہے کہ اسے گناہوں کے میل سے پاک صاف ہوکر دخولِ جنت کی توقع ہوتی ہے، آخرت کے آرام وراحت اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کے مصائب؛ بلکہ یہاں کی اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کی نعمت بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، خدا کا دستور اس دنیا میں یہ ہے کہ جو بندہ جس قدر اللہ عزوجل کا مقرب ومحبوب ہوتا ہے، اسی

قدر اسے اس دنیا کے احوال وپریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، حدیث میں مومن کے لیے دنیا کو ”قید خانہ“ قرار دیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ قید خانہ میں آدمی کو گھرکی طرح سہولیات وآرام نہیں مل سکتا۔چنانچہ احادیث میں مصائب کو خدا سے تقرب ونزدیکی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔حضرت سعد  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمسے دریافت کیا گیا کہ مصائب وشدائد میں سب سے زیادہ کون ہوتے ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ مصائب وشدائد میں انبیاء ہوتے ہیں،پھر اس کے بعد درجہ بہ درجہ دوسرے افضل لوگ، آدمی کی اس کی دینداری کے لحاظ سے آزمائش ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ورنہ ہلکی، آدمی پر مصائب کاسلسلہ اس وقت تک رہتا ہے کہ وہ روئے زمین پر بغیر گناہ چلتا ہے (یعنی مصائب کی وجہ سے اس کے سارے گناہ دھل جاتے ہیںایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ بڑا بدلہ بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ جس قوم کو چاہتے ہیں اسے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں، جو شخص اس آزمائش پر اللہ سے راضی رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی رہتے ہیں اور جو ناراض رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہوتے ہیں جو شخص مصائب میں دنیا کی عدمِ پائیداری، اس کے مقابل آخرت کی زندگی کے دوام وبقا اور مصائب میں خدا سے قرب ونزدیکی کے تصور کو ذہن میں رکھے گا، اس کی مشکلیں اس کے لیے کسی حد تک ضرور کم ہوجائیں گی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.