کالے جوتے پہننے سے دماغ پر کیا اثر ہوتا ہے؟ حضرت علی ؓ کس رنگ کے جوتے پہننے کا حکم دیا ہے ؟ مومنین جان لیں

امام جعفرصادق ؑ نےفرمایا کوشش کیا کرو سفید رنگ کے جوتے پہنا کرو کیونکہ جو شخص سفید جوتے خریدنے کے لئے بازار جائے اور جوتے خرید لائے تو جوتا پرانا ہونے تک جب جب وہ جو تا پہن کر باہر جائے گا غیب سے اس کی مدد ہوتی رہے گی سفید رنگ کے جوتے پہننے سے انسان پرسکون رہتا ہے

انسان کے احساسات قابو میں رہتے ہیں اوریوں انسان ذہنی سکون پاتا ہے اور صحیح فیصلے کرنے لگتا ہے اور کوشش کر کے کالے رنگ کے جوتے کم پہنا کرو کیونکہ ان سے انسان کے وجود میں احساس ابھرتے ہیں اور انسان کے فیصلے اختلافات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب بھی نعلین پہنا کرو تو نعلین میں سیدھا پاؤں پہلے اور الٹا پاؤں بعد میں ڈالا کرو اور جب بھی نعلین اتارا کرو تو الٹا پاؤ ں پہلے اور سیدھا پاؤں بعد میں نکالا کرو اگرانسان ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اپنا لے تو اس کا مزاج پرسکون اور طبیعت بامعیار رہے گی۔جوتوں کے رنگ کے حوالے سے کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گزری البتہ بعض بزرگوں کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ کعبے شریف کے غلاف کا رنگ کالا ہے اس لیے وہ کالے جوتے نہیں پہنتے۔ یہ شرعی دلیل نہیں ہے لیکن ان کی ایمانی کیفیت کا ایک حال ہے کہ وہ ادباً کالے جوتے نہیں پہنتے۔ چنانچہ کالے رنگ کے جوتے پہننا جائز ہیں۔نَعْلَین(یعنی جوتے) پہننا سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّت ہے۔ جوتے پہننے سے کنکر، کانٹے وغیرہ چبھنے سے پاؤں کی حفاظت رہتی ہے دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:جوتے بکثرت استعمال کروکہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوتا ہے گویا وہ سوار ہوتا ہے(یعنی چلنے کی مشقت سے بچ جاتا ہے۔ جس طرح سواردھول پتھر اور کانٹے سے بچ جاتا ہے۔فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو دائیں (یعنی سیدھی) جانب سے ابتدا کرے اور جب اُتارے تو بائیں (یعنی اُلٹی) جانب سے ابتدا کرے تاکہ دایاں (یعنی

سیدھا) پاؤں پہننے میں اوّل اور اُتارنے میں آخِری رہے۔جوتے پہننے سے پہلے جھاڑ لیجئے تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہو تو نکل جائے۔ کسی بھی رنگ کا جوتا پہننا اگرچہ جائز ہے لیکن پیلے رنگ کے جوتے پہننا بہتر ہے کہ مولا مشکل کشا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم فرماتے ہیں:جو پیلے جوتے پہنے گا اس کی فِکروں میں کمی ہوگی۔استعمالی جوتا اُٹھانے کے لئے اُلٹے ہاتھ کا انگوٹھا اور برابر والی انگلی استعمال کریں ۔ مَرد مردانہ اور عورت زَنانہ جوتا استِعمال کرے۔ جب بیٹھیں تو جوتے اتار لیجئے کہ اِس سے قدم آرام پاتے ہیں۔پیلے رنگ کا جُوتا اِسْتِعْمال کرنے میں حِکمت ہے کہ اس سے غَموں میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ سیاہ جُوتے غم کاباعِث ہوتے ہیں ۔اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ مجید میں اِرشاد فرماتاہے :وہ ایک پیلی گائے ہے۔
جس کی رنگت ڈَہڈَہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ۔جمہورمُفَسِّرِیْن رَحِمَہُم اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اس جانب اِشارہ فرماتے ہیں کہ زرد(یعنی پیلا ) رنگ خُوشنُما رنگوں میں سے ہے ۔ اِسی بِنا پر حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ مُشْکل کُشا علیُّ المرتضٰی شیرِخُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زَرد رنگ کے جُوتے پہننے کی ترغیب دلاتے اور فرماتے : مَنْ لَّبِسَ نَعْلاً اَصْفَرَ قَلَّ ھَمُّہ یعنی جس نے پیلے رنگ کا جُوتا پہنا اُس کے غم کم ہوں گے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر اور یحییٰ بن کثیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سیاہ جُوتے پہننے سے منع فرمایا کیوں کہ یہ غَم کا باعِث ہوتے ہیں ۔ میرے آقائے نعمت، اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین و مِلّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : سیاہ جُوتا رنج اور زرد خوشی لاتا ہے ۔ یاد رہے کہ سیاہ جُوتے کے اِستِعمال سے منع فرمانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سیاہ جُوتے کا اِستِعمال ناجائز وحرام ہے ۔ اِستِعمال کرسکتے ہیں مگر اِجتِناب کرنا (یعنی بچنا) مُناسِب معلوم ہوتاہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.