شیطان ابلیس نے یہ وظیفہ ایک صحابی کو بتایا

ایک دفعہ حضور پاک ﷺ نے سیدنا ابی ہریرہ ؓ سے فرمایا کہ یہ صدقے کی کھجوریں ہیں رات کو تم نے پہرہ دینا ہے حفاظت کرنی ہے انہوں نے کہا ٹھیک ہے اب رات کو عبادت کررہے تھے تو شیطان ایک انسان کی شکل میں آیا اور کھجوریں اٹھانے لگا حضرت ابو ہریرہ ؓ نے پکڑ لیا وہ رونے لگ گیا میرے چھوٹے بچے ہیں

بھوکے مررہے ہیں پہلی دفعہ غلطی کی ہے آئندہ نہیں کروںگا آپ نے چھوڑ دیا جب صبح کی نماز میں آئے تو حضور ﷺ نے فرمایا او تیرے قیدی نے رات کیا کیا انہوں نے کہا حضور آیاتھا میں نے چھوڑ دیا حضور نے فرمایا وہ تو شیطان تھا دوسری رات آپ نے کہا اچھا میں اس کو نہیں چھوڑوں گا دوسری رات پھر آپ نے پکڑ لیا اس نے پھر وہی کیا تو حضرت ابو ہریرہ کا دل نرم ہوا تو انہوں نے پھر چھوڑ دیا صبح حضور نے پوچھا اچھا آج رات کیا ہوا آپ نے فرمایا حضور وہ پھر آیاتھا حضور نے فرمایا اب بھی آئے گا تیسری رات جب وہ آیا تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فیصلہ کرلیا کہ آج کبھی نہیں چھوڑوں گا کچھ کر لے روئے پیٹے مر جائے میں نے اس کو باندھ لیا اور اس نے کہا اچھا ابو ہریرہ ایک بات سنو میں تمہیں ایک عمل بتاتا ہوں ایک وظیفہ بتاتا ہوں اگر پڑھ لے تو تمہارا مال کبھی چوری نہیں ہوگا پھر تو چھوڑ دو گے انہوں نے کہا ہاں پھر تو چھوڑ دوں گا اس نے کہا آیت الکرسی پڑھ کر دم کردیا کرو تمہارا مال کبھی نہیں چوری ہوگا صبح جب حضرت ابو ہریرہ حضورﷺ کے پاس پہنچے تو حضورﷺ نے پوچھا تمہارے قیدی

کا کیا حال ہے بھائی انہوں نے کہا رات میں نے پھر پکڑ لیا اس نے مجھے پھر یہ بتایا حضورﷺ نے فرمایا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے ہے تو شیطان جھوٹا لیکن اس نے یہ سچ بولا ہے ۔ تو یہ آیت الکرسی اتنی بڑی نعمت ہے کہ آدمی چلتے ہوئے اپنے گھر کے باہر پڑھ کر حصار قائم کر لے الحمد للہ محفوظ ہوجاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) (ساری کائنات کو) سنبھالنے والاہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون شخص ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے سامنے شفاعت کرسکے، وہ جانتا ہے ان (کائنات) کے تمام حاضر وغائب حالات کو ، وہ (کائنات) اُس کی منشا کے بغیرکسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے، اُس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کو ان (زمین وآسمان) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ یہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے جو عظمت والی آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور بعض اہم صفات کا ذکر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا بھی ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے اس آیت کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.