حضور ﷺ کا بد ترین دشمن انجانے میں صحابہ کرام کے ہتھے چڑ ھا تو اس کے ساتھ کیا ہوا

ایک ایسا فاتح اعظم جس پر دنیا نے ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ہجرت کے وقت انتہائی غم کے عالم میں فاتح اعظم ﷺ نے اپنے جان نثار صحابہ کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فر ما کر اپنے وطنِ عزیز کو خیر باد کہہ دیا تھا اور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت

بھری نگاہ ڈال یہ فر ماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے ۔ اے مکہ خدا کی قسم تم میرے نگاہ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکا لتی تو میں ہر گز تجھے نہ چھوڑتا۔ اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مکہ کو اس بے سر و مانی کے عالم میں خیر باد کہنے والا صرف آٹھ ہی برس بعد ایک فاتح اعظم کی شان شو کت کے ساتھ اسی شہر میں مکہ میں آ ئے گا اور کعبہ میں داخل ہو کر اپنےسجدوں کے جمال اور جلال سے خدا کے گھر مکہ کو سر فراز فر ما ئے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ اہلِ مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو توڑ ڈالا اور معاہدے پر غداری کر کے عہد شکنی کے مرتکب ہو گئے کہ حضور ﷺ کے حلیف بنو خزاء مکہ والوں نے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔ بے چارے بنو خزاء اس ظالما نہ حملے کی تاب نہ لا کر حرمِ کعبہ میں پناہ لینے کے لیے بھا گے تو ا ن درندوں نے حرمِ الٰہی کے تقدس کو بھی خاک میں ملا دیا اور کعبہ میں بھی ظالما نہ طور پر بنو خزاء کا خون بہا یا۔ اس حملہ میں بنو خزاء کے تیس آ دمی قتل ہو گئے۔ اس طرح اہلِ مکہ نے اپنی اس حرکت

سے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ چنانچہ دس رمضان آ ٹھ ہجری کو حضور پاک ﷺ مدینہ سے دس ہزار کا لشکر ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو ئے ۔ مدینہ سے چلتے وقت حضورﷺ اور تمام صحابہ کرام روضہ دار تھے لیکن جب آپ مقام پر پہنچے تو پانی مانگا اور اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے پوری لشکر کو دکھا کر آپ نے پانی نوش فر ما یا اور سب کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم فر ما یا اور آپ ﷺ کے اصحاب نے سفر اور جہاد میں ہونے کی وجہ سے روزہ اپنا ختم کر دیا۔ حضوراکرم ﷺ نے سر زمین مکہ میں نزول اجلال فر ما یا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقامِ ہجون کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید کے ہاں فر مان جاری کر دیا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے با لائی حصہ میں یعنی کہ قداء کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔ تاجدارِ دو عالم ﷺ نے مکہ کے سرزمین پر قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمانِ شاہی جاری فر ما یا کہ وہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا مو جیں فر ما رہے ہیں۔ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا۔ اس کے لیے امان ہے۔ جو شخص اپنا دروازہ بند کر دے گا۔ اس کے لیے امان ہے۔ جو کعبہ میں داخل ہو جائے گا۔ اس کے لیے امان ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.