دماغ سپر کمپیوٹر کی طرح کام کرے گا، سورۃ النسا کی آیت نمبر 113کا ایک حصہ یوں پڑھو اور کمال دیکھو

جو بچہ کند ذہن ہو یا بڑا آدمی کند ذہن ہو بات بھول جاتا ہو سبق پڑھنا بھول جاتا ہو اگر کوئی قرآن حفظ کررہا ہے وہ اسے یاد نہیں ہوتا یا کہیں کوئی چیز رکھ کر آدمی بھول جاتا ہے یعنی کسی قسم کی بھی بھول چوک اس سے ہوتی ہو اور اکثر ہوتی رہتی ہو شاذ ونادر تو ہر ایک سے ہوجاتی ہے اور اکثر جو

ہربات میں ہی بھول جاتا ہو ہر کام میں بھولتا رہا ہو اور اسے کہا بھی جائے کہ فلاں کام کرو جب پوچھا جائے کہ کام کیا ہے ؟ تو یہی کہے گا اوہو مجھے تو یاد ہی نہیں رہا میں تو بھول ہی گیا ایسا آدمی یا اس طرح کا بچہ جو ہر وقت ہی بھولتا ہو اور پڑھنے میں بھی کند ذہن ہو نالائق ہو اس کے لئے سورہ نساء کی یہ آیت مبارکہ نمبر 113 کا یہ حصہ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما کو 121 مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کیجئے اس کے اول آخر تین تین مرتبہ درود ابراہیمی بھی پڑھ لیجئے یہ بچے کو پلائیے جو زیادہ تر بھول کا شکار ہو جس کا حافظہ کمزور ہو کند ذہن ہو چند دن یہ پانی پلائیں گے انشاء اللہ اس کا حافظہ تیز ہوجائے گا بھولی ہوئی ساری باتیں بھی اس کو یاد آجائیں گی جب تک اس کا ذہن تیز نہیں ہوجاتا اس وقت تک یہ وظیفہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے اسے پلاتے رہیں خواہ وہ پندرہ دن لگ جائیں بیس لگ جائیں یا اس سےبھی زیادہ دن لگ جائیں جب آپ یہ محسوس کریں کہ اب بچہ صحیح ہوگیا ہے اس کا ذہن تیز ہوگیا ہے بھول چوک اس کی ختم ہوگئی ہے اس وقت یہ وظیفہ آپ ختم کردیں لیکن اس وقت

تک لازمی جاری رکھنا ہے جب تک اس کو مکمل فائدہ نہیں ہوجاتا یہ نہیں کرنا کہ کچھ تھوڑا سا بہتر ہوگیا تو آپ وظیفہ کو چھوڑ دیں نہیں آپ کو مکمل تسلی ہوجائے کہ بچہ صحیح طور پر ٹھیک ہوگیا ہے پورا آپ کو یقین ہوجائے تو پھر آپ اس وظیفہ کو چھوڑ سکتے ہیں بہت ہی مبارک وظیفہ ہے اور بہت ہی بڑے فائدے والا وظیفہ ہے اللہ رب العزت ان حضرات کو جن کے بچے یا جن کے گھر کے کوئی بڑے افراد بھی اس بیماری کے اندر مبتلا ہیں یعنی بھول چوک کی بیماری میں مبتلا ہیں یہ وظیفہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.