ماہ ِ شوال المکرم میں سورۃ فاتحہ کی آیت۔ الحمد اللہ رب العلمین پڑھنے کی طاقت خود دیکھیں۔

الحمد اللہ عید گزر گئی ہے اور ہم آپ کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ بہت بہت عید مبارک ہو۔ اور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج عید کا تیسرا دن ہے تو جیسا کہ آپ کو معلوم تھا کہ رمضان کے اندر مجھے کرونا کے حوالے سے شکایت ہو گئی تھی وائرس ہو گیا تھااور پورا رمضان تقریباً ایسے ہی گزرا اور اللہ پاک

نے مجھے شفاء دی ہے لیکن بہت زیادہ ابھی بھی طبیعت خراب ہے کمزوری بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ مجھے شفاء ہوئی تو میں نے تھوڑی سی بے احتیاطی کی ہے لیکن ڈاکٹر کی ہدایات تھیں کہ آرام کر یں تو عید کے دن بھی سخت بیماری کے اندر گزرے تو شروع میں آپ کو عید مبارک نہیں کہہ تو آپ سب سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے تو اسی مہینے کے حوالے سے کہ شوال المکرم جو کہ ابھی شروع ہو چکا ہے۔ سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت بسم اللہ الر حمن الر حیم الحمد اللہ رب العٰلمین پڑھنے کی طاقت خود دیکھیں یعنی اس کی کتنے فوائد ہیں۔ مکمل بتا ؤں گا۔ آج ایسا عمل شئیر کرنے جا رہا ہوں جو ہر کسی کے لیے کسی بھی شخص کا کوئی بھی مسئلہ نہ ہو چاہے کسی کو کوئی مسئلہ ہے بھی یا نہیں وہ بھی اس آیت کو ضرور پڑھے کسی کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ پورا ہو جا ئے گا ۔ آ ج ایسا عمل شئیر کرنے کے لیے جا رہا ہوں جو ہر کسی کے لیے ہے کسی کا کوئی بھی مسئلہ ہو شادی کا، اولاد کا، مال و دولت کا، محبت کا ، بڑی سے بڑی مشکل، نا ممکن حاجات ، بس اس ماہ شوال میں چلتے پھرتے سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت کثرت سے پڑھیں۔ جتنا آپ پڑھ سکتے ہیں۔ انشاء اللہ زندگی کے تمام مسائل جڑ سے ختم ہو جا ئیں گے جیسے کبھی تھے ہی نہیں آج موقع ہے ضرور

فائدہ اُٹھا ئیں۔ سورہ فاتحہ سے شفا کے بارے صحیح بخاری میں ایک جامع حدیث موجود ہے جو یوں بیاں کی گئی ہے ”مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے معبد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاو¿ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے۔ اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورہ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.