ایک مر تبہ رسول اللہ ﷺ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلے تو با ہر شیطان کھڑا تھا۔۔۔

حضور سرورِ کائنات ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور کیوں نہ ہو کہ آپ محبوب خدا ہیں امامِ الا نبیاء ہیں، ق ی ا م ت کے دن شفاعت کرنے والے ہیں کہ جس دن کسی نبی کی بارگاہ خداوند میں حاضر ہو کر سفارش کرنے کی جرات نہ ہو گی۔ آپ کی شان اتنی ہے کہ اگر مٹنے کی بات کی جا ئے تو دنیا ختم ہو سکتی ہے

لیکن حضورِ کا ئنات ﷺ کی شان ختم نہیں ہو گی اگر یہ کہا جا ئے تو غلط نہ ہوگا کہ شان مصطفیٰ اگر کوئی ہستی جانتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات ہے اور اگر کو ئی ہستی شان خدا جا نتی ہے تو وہ حضور کا ئنات ﷺ کی پاک ذات ہے آج کا ہمارا یہ بیان حضور ﷺ کی زندگی کا وہ واقعہ ہے ہمارے لیے مشعل راہ ہے اوریہ واقعہ حضور ﷺ کی شی طان کے ساتھ ہونے والی ملا قات اور اس سے ہونے والے سوالات کے بارے میں ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم آغاز کر یں آپ کو ضروری ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فر ما یا فرشتوں اور ش ی ط ا ن کو حضرت آدم علیہ السلام کے حضور سجدہ تعظیم کرنے کو کہا تو یہ ش ی ط ا ن انکاری ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس لعین کو لع نت کے ط وق کے ساتھ جنت سے نکال پھینکا۔ چونکہ ش ی ط ا ن کے جنت سے نکل جانے کی وجہ حضرت انسان ہوا تو اپنے حسد کی آ گ بجھانے کے لیے ش ی ط ا ن اللہ تعالیٰ کے بندوں کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ مختلف نبیوں اور رسولوں کے دور میں ان سے ملاقات کر تا رہااور ان کی قوم کو تباہ و بر باد کرنے کے لیے مختلف چالیں چلتا رہا۔

اور ان کو گمراہی میں ڈالتا رہا کہ جس کی وجہ سے ان پر نہایت درد ناک ع زاب آ ئے اور ان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا حضرت نوح علیہ السلام سے تو ش ی ط ا ن کی ملاقات ہو ئی تو آپ نے اس سے پو چھا: کہ اے بد بخت یہ بتا کہ نبی آدم کے کون سے عادات تجھے اور تیرے لشکر کو گمراہ کرنے میں معاونت کر تے ہیں تو ش ی ط ا ن نے جواب دیا: کہ جب ہم بنی آدم کو کنجوس، بخیل، سرکش اور جلد باز پا تے ہیں تو اسے جھپٹ لیتے ہیں۔ جب کسی انسان میں یہ تمام عادات جمع ہو تی ہیں تو ہم اس کا نام ش ی ط ا ن مرید یعنی سرکش رکھتے ہیں۔ جب حضرت موسی ؑ سے ش ی ط ا ن کی ملاقات ہو ئی تو ش ی ط ا ن نے آپ علیہ السلام سے کہا: کہ اے موسیٰؑ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت کے لیے معبوث فر ما یا ہے اور آپ سے ہمکلام ہوا ہے۔ میں بھی خدا کی مخلوق میں شامل ہوں اور مجھ سے ایک گ ن ا ہ سر زد ہوا ہے۔ اب میں توبہ کر نا چاہتا ہوں آ پ اپنے پروردگار کے پاس میری سفارش کر یں کہ میری توبہ قبول کر ے حضرت موسی ٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی۔ حکم ہوا کہ اے موسیٰؑ ! ہم تمہاری حاجت بر لا ئے ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام ش ی ط ا ن سے ملے اور کہا کہ مجھے ارشاد ہوا ہے کہ تو آدم علیہ السلام کی ق ب ر کو سجدہ کر ے تو پھر تیری توبہ قبول ہو گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.