گرمی میں جتنا اس چیز کا استعمال کریں گے اتنی ہی تیزی سے آپ کا وزن کم ہوگا

خشک آلو بخار ا کھانے میں بہت مزیدار لگتا ہے ۔ اور اسے کھانوں میں ذائقے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے آلوبخارا صحت کےلیے بہت مفید ہے۔ لیکن اس کو خشک کرکے استعمال کرلیا جائے تو یہ کئی طرح کے کینسربالخصوص بڑی آنت کینسر کے لیے بہت مفید ہے۔
اگر خشک آلو بخارے

کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو مفید بیکٹیر یا کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور بڑی آنت کے کینسر کے خط.رات کم ہوجاتے ہیں۔ خشک آلو بخارے میں گھلنے والا اور نہ گھلنے والا دونوں طرح کا فائبرز پایا جاتا ہے۔ جو کہ تازہ آلو بخارے میں نہیں ہوتا۔ اسے وزن کم کرنے میں اور جسم سے اضافی چربی کو ختم کرنے کے لیے بہت ہی مفید ہے۔ آج آپ کو ایک آلو بخارا کا ایسا استعمال بتائیں گے جس کے چند دن کے استعمال سے آپ کے جسم کی چربی پگھل جائے گی ۔ اور تیزی سے آپ کا وزن کم ہوگا۔ اگر آپ اپنے پیٹ ، کمر یا کولہوں کی چربی سے پریشان ہیں۔ آج ہی یہ مشروب صبح نہارمنہ پینا شروع کریں ۔ آپ کا وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ پیٹ اور کمر کے اضافی چربی کم ہوجائےگی۔ اس مشروب سے آپ کی صحت بھی ٹھیک رہے گی۔ بلڈ پریشر کنٹرول میں رہے گا۔ ذیا بیطس سےبچت ہوگی ۔ اور ساتھ ہی کینسر سے بھی محفوظ رہے گا۔ اس ڈرنک کوبنانے کے لیے آپ کو صرف او ر صرف دوچیزیں چاہیں ہوں گی۔

پہلے نمبر پر سوگرام خشک آلو گرام چاہیے ہوگا۔ اور دوسرے نمبر پر ایک لیٹر پانی چاہیے ہوگا۔ اب آپ کو اس کے بنانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ ایک لیٹرپانی لیں ۔ اور آلو بخارا پانی میں ڈال دیں۔ لیکن پہلے آلوبخارے سے گھٹلیاں الگ کردیں۔ آلو بخارا کو ڈالنے کے بعد اس پانی کی بوتل کو کور کرلیں۔ یہاں بوتل کا استعمال کیا جارہا ہے آپ جس برتن میں چاہیں اسکو بنا سکتے ہیں لیکن برتن ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں ہوا کا گزر نہ ہو۔ اب اس بوتل کو فریج میں رکھ دیں۔ ایک ہفتے کے بعدا س کو فریج سے نکال لیں۔ اور اس کو اچھی طرح بلینڈ کریں ۔ پھر اس کو واپس فریج میں رکھ لیں۔ روزانہ اس مشروب کا ایک کپ نہار منہ پی لیں۔ اور پینے سے پہلے اس میں ایک چٹکی کالی مرچ کی شامل کریں۔ کچھ ہی دنوں میں آپ کو اپنے جسم میں اضافی فر ق دیکھیں گے ۔ جب ختم ہوجائے تو اس مشروب کو اور بنا لیں۔ جب تک ضرورت ہوآپ استعمال کریں۔ یہ بہت ہی کمال کی ڈرنک ہے اس سے یقینی آپ کا وزن کم ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.