اللہ پاک کے سپر پاور فل نام ”یا لطیف کا عمل“بڑی سے بڑی حاجت پوری ، رمضان کے آخری روز یہ عمل ضرور کرنا

ا لطیفُ“ کا عمل صحیح ہے، اپنے بھائی کی شادی کے لیے اسے پڑھ سکتی ہیں سوال:عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد میں ”یا لطیف “کا عمل پڑھتی ہوں، اس کو پابندی سے پڑھنے سے اس کا کوئی الٹا اثر بھی ہوسکتاہے کیا؟میں اس عمل کو اپنے بھائی ک” اللطیف “ بعض علماءاور عارفین نے اللطیف کے بارے میں لکھا ہے

کہ یہ اسم اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ بعض محققین نے امام شا فعی رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ اس اسم مبارک میں قضائے حاجات اور کشائش کیلئے بڑی برکا جم ہیں، اس اسم کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے۔ طریقہ:۔ عشاءکی نماز کے بعد کامل طہارت کے ساتھ ایک ہی نشست میں اللہ تعالیٰ کا یہ اسم”اللطیف“ 16641مرتبہ پڑھا جائے۔ کشائش رزق جو شخص اپنے رزق میں سہولت کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ روزانہ اس اسم ”اللطیف“ کو 129 بار پڑھا کرے انشاءاللہ وہ اپنے رزق اور مال میں برکت دیکھے گا۔ تنگی اور قید سے خلاصی جو شخص تنگی اور قید سے نجات حاصل کرنا چاہے تو وہ اس اسم اللطیف کو 129 بار روزانہ پڑھا کرے اور اخیر میں یہ دعا پڑھے۔”اِنَّ رَبِّی لَطِیف لِّمَا یَشَائُ اِنَّہُ ھُوَ العَلِیمُ الحَکِیم“ انشاءاللہ بہت جلد خلاصی نصیب ہو گی۔ بعض صاحب اسرار مشائخ فرماتے ہیں جس شخص نے 16 مرتبہ صاف ستھرے برتن میں ”اللّٰہ لطیف بعبادہ“ لکھا اور اس پر آیات شفاءپڑھیں، اور اس کو دریائے نیل کے یا آب زمزم سے گھولا یا اگر یہ پانی نہ ملیں تو عام پانی میں گھول کر پیا تو اللہ تعالیٰ اس کو موذی مرض سے شفا عطا فرمائیں گے اور اگر اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی لکھی ہو گی تو اس کو مختصر وقت میں صحت عطاءفرمائیں گے اور اگر موت لکھی ہو گی تو اس پر اس کو آسان کر دیں گے۔ اس عمل کا بہت مرتبہ تجربہ کیا اور تجربہ صحیح

نکلا اور آیات شفاءچھ ہیں۔ اور وہ یہ ہیں۔ ”وَیَشفِ صُدُورَ قَومٍ مُّومِنِینَ“ ”وَشِفَاء لِّمَا فِی الصُّدُورِ“ ” یَخرُجُ مِنم بَطُونِھَا شَرَاب مُّختَلِف اَلوَانُہ‘ فِیہِ شِفَاء للِنَّاسِ“ ”وَنُنَزِّلُ مِنَ القُراٰنِ مَا ھُوَ شِفَاء وَ رَحمَة لِلمُئو مِنِینَ“ ”وَاِذَا مَرِضتُ فَھُوَ یَشفِینِ“ ”قُل ھُوَ لِلَّذِینَ اٰمَنُوا ھُدًی وَّشِفَاء “ حکایت: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب حجاج کے پاس گئے تو اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ساتھ دعا فرمائی: ۔ ”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ یَا لَطِیفًا قَبلَ کُلِّ لَطِیفٍ یاَ لَطِیفًا بَعدَ کُلِّ لَطِیفٍ یَا لَطِیفًا اَلطَفَ بِخَلقِ السَّمٰوٰاتِ وَلاَرضِ۔ اَسئَلُکَ بِمَا لَطَفتَ بِہ بِخَلقِ السَّمٰوٰاتِ وَالَارضِ اَن تَلطُفَ بِی فیِ خَفِیِّ لُطفِکَ الخَفِیِّ مِن خَفِیِّ لُطفِکَ الخِفِیِّ اِنَّکَ قَلتَ وَقوَلُکَ الَحَقُّ۔ اَللّٰہُ لَطِیف بِعِبَادِہ یَرزُقُ مَن یَّشَائُ وَھُوَ القَوِیُّ العَزِیزُ۔ اِنَّکَ لَطِیف لَطِیف۔ آخر میں ” لَطِیف“ کو بیس مرتبہ کہے۔ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کہے اور حجاج کے قریب پہنچے تو حجاج آپ کیلئے کھڑا ہو گیا اور خوب توجہ و تعظیم کی اور اپنے پہلو میں بٹھایا اور اکرام و انعام بھی کیا حالانکہ وہ آپ کو قتل کی دھمکی بھی دے چکا تھا۔ (فائدہ): جو شخص کثرت سے یا لطیف کا ورد کرے گا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے گا۔ اس کیلئے یہ عمل قبولیت دعا، دفع بلاءاور خوف ظالمین اور ازالہءفقر کیلئے انتہائی عجیب تریاق ہے۔ لیے پڑھ رہی تھی، لیکن جب سنا کہ پوچھ کہ عمل کرنا چاہئے، اس لیے میں پوچھ رہی ہوں، کیا ” یا لطیف “ کا عمل پڑھنا صحیح ہے ؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.