پیروں کا سوجنا کن امراض کی علامت؟

پیر ہمارے جسم کا سب سے محنت کرنے والے عضو ہے جو کہ روزانہ صبح اٹھنے کے بعد سونے تک پورا دن جسمانی وزن کو برداشت کر کے ہمیں چلنے بھاگنے چھلا نگ لگانے کھڑے ہونے اور دیگر میں مدد دیتے ہیں ہڈیاں اور سو سے زائد مسلز اور دیگر کے ساتھ پیر اور ایڑیاں ایک ٹیم کے طو ر پر کام کر تے ہوئے

ہمیں ہر طرح کی سر گرمیوں کا حصہ بننے میں مدد دیتے ہیں۔ تا ہم اگر بغیر کسی وجہ کے پیر سوجنے یا پھول جا ئیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تاہم اگر بگیر کسی وجہ کے پیر سوجنے یا پھول جا ئیں تو اس کی کیا وجہ وہ سکتی ہے؟ گردے فیل ہونے کا انتباہ گردے جسم کے اندر موجود سیال کو توازن میں رکھنے اور انہیں ضرورت ختم ہونے پر جسمانی نظام سے با ہر نکالنے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں ۔ مگر جب ایک یا دونوں گردے مناسب طریقے سے کام نہ کر رہے ہوں تو اس کی ایک علامت پیر سوجنے کی شکل میں سامنے آ تی ہے طبی ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں اکثر گھر جا کر کچھ آرام کر یں اور زیادہ پانی پی لینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے مگر جب گردے اضافی پانی یا سیال کو خارج کرنے میں مشکل کا سا منا کر رہے ہوں تو پیروں کی سوجن زیادہ سے زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے جب کہ ہاتھ اور پیر بھی سوج سکتے ہیں ایسے حالات میں طبی ما ہرین ہی اس کی تشخیص کر کے اس کا علاج تجویز کر سکتے ہیں۔ جگر کے امراض جسم کے مختلف حصے سو جنا خاص طور پر پیروں کا سوجنا جگر کے امراض میں عام ہو تا ہے۔

اگر آپ کےپیر اکثر سوج جا تے ہیں تو روزانہ بیس منٹ تک چہل قدمی کو عادت بنانے سے خ و ن کی روانی کو ٹانگوں میں بہتر بنا یا جا سکتا ہے تا ہم حالات میں بہتری نہ آ نے پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جا نا چاہیے۔ خ و ن کی گردش میں رکاوٹ کسی ایک پیر یا ہاتھ کا سوجنا خ و ن کے جمنے یا گاڑھا ہونے کی واضح ترین علا مات میں سے ایک ہے درحقیقت خ و ن کے جمنے کے نتیجے میں ٹانگوں تک خ و ن کا پہنچنا بلاک ہو جا تا ہے۔ اور وہ خ و ن اس جگہ جمع ہونے لگتا ہے جہاں کلاٹ ہو تا ہے۔جس کے نتیجے میں سوجن ہونے لگتی ہے اگر کبھی آپ کا ہاتھ یا ٹانگ سوج جائے اور ساتھ میں درد بھی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کر نا چاہیے۔ جوڑوں کے امراض اس مرض کی پہلی علامت عام طور پر پیروں کے انگو ٹھوں کا سو جنا ہو تا ہے کہ جو کہ یورک ایسڈ کے جمع ہونے کا نتیجہ ہو تا ہے طبی ماہرین کے مطا بق ایسا ہونے پر اتنا شدید درد ہو تا ہے جیسے ہڈی ٹوٹ گئی ہو عام طور پر یہ نصف شب کو ہوتا ہے اور اتنا شدید ہو تا ہے کہ ہلنے کی ہمت بھی نہیں ہو تی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.