یکم شوال عیدکی بڑی خوشیوں میں بہت بڑا وظیفہ

یکم شوال کی ایک تاریخ یعنی عیدالفطر کا ایک ایسا وظیفہ جوبڑی خوشیوں کی طرح ایک بڑا وظیف ہے جو شخص یہ وظیفہ کرلیتا ہے۔ اس کی قب ر میں ایک ہزار انوار داخل کیے جاتے ہیں۔ اوراس کے جتنے بھی عزیز واقارب ہیں ان کی قبروں میں بھی ایک ہزار انوار داخل کیے جاتے ہیں پڑھنے والے کی فوراً بخشش ہوجاتی ہے۔

اور رزق پانی کی طرح برستا ہے۔ آج عید کے دن آپ نے چلتے پھرتے یہ عمل کر لینا ہے۔آج آپ کے لیے ان تمام بہن بھائیوں کے لیے جنہوں نے عید کی خوشیاں منانی ہیں۔ تو عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اپنے رب عزوجل کو یا دکریں جس نے یہ عید کا تحفہ دیا ہے ۔ جس نے عید کی خوشیوں کا تحفہ دیا ہے۔یکم شوال یعنی آج عید الفطر کا دن ہے۔آپ نے یہ وظیفہ کرلیناہے۔ اللہ کی ذات آ پ کو اتنا عطافرمائےگی۔ کہ جتنا رمضان المبارک کے بعد یہ عید عطافرمائی ہے۔ آپ نے بہت سے کھانوں میں جب آپ کھانا بنائیں تو اس میں غریبوں کا حصہ ضرورنکالیں۔ حضرت سیدنا زوال نون مصری ؒ نے دس برس تک کوئی لذیذکھانا تناول نہ فرمایا ۔ نفس چاہتا رہا اورآپ نفس کی مخالفت کرتے رہے۔ ایک بار عید مبارک کی مقدس رات کو دل نے مشورہ دیا کل عید کے رو ز کوئی کھانا کھالیا جائے تو کیا حرج ہے۔ اس مشورے پر آپ نے بھی دل کو آزمائش مبتلا کرنے کی غرض سے فرمایا: میں اولاً دو رکعت نفل میں پورا قرآن پاک ختم کروں گا۔

اے میرے دل ! تو اگر اس بات میں میرا ساتھ دے ۔ توکل لذیذ کھانا مل جائےگا۔ لہٰذا آپ نے دورکعت اد ا کی۔ اوران میں پورا قرآن کریم ختم کیا۔ آپ ؒ کے دل میں اس امر میں آپ ؒ کا ساتھ دیا۔ یعنی دو رکعتیں دل میں جماعی کے ساتھ ادا کرلیں۔ اور آپ نے عید کے دن لذیذ کھانا منگوایا ۔ نوالہ اٹھا کر منہ میں ڈالنا ہی چاہا تھا۔ کہ بے قرار ہوکر پھر رکھ دیا۔ اور پھر نہ کھایا ۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: جس وقت میں نوالہ منہ کے قریب لاتا ہوں۔ میرے نفس نے مجھ سے کہا ہے۔ کہ دیکھا میں آخر اپنی دس سال پرانی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے اسی وقت کہا کہ اگر یہ بات ہے میں تجھے کامیاب نہ ہونے دوں گا اور ہرگز لذیذ نہ کھانانہ کھاؤں گا۔ چنانچہ آپ نے لذید کھانا کھانے کا ارادہ ترک کردیا۔اتنے میں ایک شخص لذیذ کھانے کا تباق اٹھائے حاضرہوا اور عرض کیا یہ کھانا رات اپنے لیے تیار کیا تھا۔ رات جب سویا تو قسمت انگڑائی جاگ اٹھی خواب تاجدار رسالت ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ اور میرے پیارے آقاﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا اگر تو کل قیامت کے روز مجھے دیکھنا چاہتا ہے

تو یہ کھانا زوال نون مصری ؒ کے پاس لے جا۔ اور ان سے کہہ کہ حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ﷺ فرماتے ہیں : دم بھرکےلیے نفس کے ساتھ صلح کرلو۔ اور چند نوالے اس لذیذ کھانے سے لے لو۔ حضرت سیدنا زوال نون مصری ؒ یہ سن کو جھو م اٹھے اور کہنے لگے میں فرمانبردار ہو ں اور لذیذ کھانا کھانےلگے ۔ اللہ کی ان پر رحمت ہو ان کے صدقے میں ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اس میں شک نہیں کہ عید کے دن غسل کرنا ، نئے اور دھلے ہوئے کپڑے پہننا اور عطر لگانا یہ مستحب ہے یہ مستحبات ہمارے ظاہر ی بدن کی صفائی اور زینت کے متعلق ہیں۔ لیکن ہمارے ان صاف اجلے اور نئے کپڑوں اور نہائے ہوئے اور خوشبو ملے ہوئے جسم کے ساتھ ساتھ ، ہماراجسم پر ہم پر ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان خدائے رحمان عزوجل کی محبت واطاعت اور امت کے غم خوار دو جہانوں کے تاجدار کی الفت و سنت سے خوب سجی ہونی چاہیے۔ رمضان المبار ک کے بعد عید الفطر جو آتی ہے۔ عیدالفطر کے دن چلتے پھرتے اگر وہ “سبحان اللہ وبحمدہ ” کو پڑھتا رہے۔ چلتے پھرتے اس کی کوئی تعداد نہیں ۔ لا تعداد مرتبہ پڑھتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمادیتا ہے۔ اور اتنا اللہ تعالیٰ ا س کو رزق عطافرماتا ہے کہ اس کےپاس تقسیم کرنے کے لیے بھی رزق وافر مقدار میں آجاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.