جو چاہو حاصل کرو صرف ایک رات کا عمل

مولائے رحیم وکریم علیم بذات الصدور ہے۔ اللہ رب العزت دلوں کی بات ہی نہیں بلکہ وہ دل کی ہر دھڑکن کو جانتا ہے اور جاننے کے ساتھ ساتھ حساب بھی لے گا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے

یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔نیت کہتے ہیں دل کے پکے ارادے کو۔جو بھی کام ہم کریں گے اس میں نیت کی اچھائی و برائی دیکھی جائے گی اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نیت کے اعتبار سے ہی سزاو جزا کا فیصلہ ہوگا۔ہمارا کوئی بھی عمل نیت کے بغیر قابل اعتبار نہیں۔ ہمارے سارے اعمال کا دارو مدار ہماری نیت ہے۔ خالص اللہ و رسول کی رضا جوئی کی نیت سے کام کرنا ہی فلاح کا ضامن ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی پہلی حدیث نیت کے بارے میں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور بے شک ہر انسان کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے ، جس کی ہجرت اللہ و رسول ٓ کے لئے ہے تو اللہ و رسول کے لئے ہجرت کا ثواب اسے ملے گا اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہے تو اس کی ہجرت کا اجرو ثواب اسے وہی ملے گا جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔

اگر ہم غور وفکر سے کام لیں تو صرف یہی ایک حدیث ہماری نیتوں کی درستگی اور اعمال کی پاکیزگی کے لئے کافی ہے۔ بڑے واضح اور جامع انداز میں نبی رحمت نے ہمارے عمل و کردار کا رخ متعین فرمادیا ہے کہ ہمارے سارے اعمال و افعال نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوتے۔ جیسی نیت ویسی برکت۔ آقائے دو عالم کا ارشاد گرامی ہے : بندہ بہت سے نیک اعمال کوانجام دیتا ہے،فرشتے اس کو آسمان پر لے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اعمال کو اس کے نامۂ اعمال سے نکال دو،کیونکہ اس نے یہ کام میری خوشنودی کے لئے نہیں کیے اور ہاں، فلاں فلاں اعمال اس کے نامہ اعمال میں درج کردو،فرشتے عرض کریں گے کہ الٰہ العالمین !اس بندے نے تو یہ کام کیے نہیں ، تب اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اس نے دل میں ان کاموں کی نیت کی تھی۔ سرکار دوعالم نے ارشاد فرمایایومِ قیامت بارگاہِ الٰہی میں ایک بندہ پیش ہوگاجس کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیاجائے گا جس میں حج ، عمرہ ، جہاد ، زکوٰۃ ، صدقہ لکھا دیکھے گا۔

بندہ دل میں کہے گاکہ میں نے اس میں کچھ بھی نہیں کیا ،یہ میرا نامہ اعمال نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا یہ تمہار اہی نامہ اعمال ہے۔ تم اپنی زندگی میں یہ کہتے تھے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا توحج و عمرہ کرتا ، صدقہ و خیرات کرتا، جہاد کرتا۔میں جانتا ہوں کہ تم اپنی اس نیت میں سچے ہو تو میں نے تم کو ان سب چیزوں کا ثواب عطا فرمادیا۔اور ایک ایسا بندہ بھی پیش کیاجائے گا جس کے ساتھ پہاڑوں جیسی نیکیاں ہوں گی۔منادی آواز دے گا :جس کسی کا اس پر حق ہو وہ بدلے میں اس کی نیکیاں لے لے۔یہ سن کر سارے لوگ آئیں گے اور اس کی نیکیاں لے جائیں گے،یہاں تک کہ نیکیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہ حیران و ششدر رہ جائے گا۔ اس وقت رب کریم ارشاد فرمائے گا:تیرا ایک خزانہ میرے پاس ہے ،جس کی خبر نہ میرے فرشتوں کو نہ کسی مخلوق کو ہے۔ بندہ عرض کرے گا :بارِالٰہ وہ کیا ہے؟رب تعالیٰ فرمائے گا وہ تیری نیک نیتی ہے جسے تو نے دنیا میں کیا تھا۔ میں نے اسے 70گنا کرکے لکھ دیا ہے جو تیری نجات کے لئے کافی ہے۔وظیفہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ یا کریمُ کا ورد کیا جائے اور اول و آخر 3 تین بار درد پاک لازمی پڑھ لیا جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ رزق کی تنگی دور ہو جائے گی تمام مصائب سے نجات ہو گی اور تمام مشکلات دور ہوں گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.