فطرانہ کب اور کس وقت ادا کرنا چاہیے

فطرانہ اللہ تعالیٰ کا ایمان والوں پر بہت بڑا احسان ہے ۔ سارا دین ہی احسان ہے۔ ہمارا جو دین ہے دین فطرت ہے سارے کاسارا دین احسان ہے میں نے جو نما زپڑھی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ہم جو وضو کرتا ہے اللہ کااحسان ہے جو روزہ رکھتے ہیں اللہ کا احسان ہے یہ اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے ہمارا کسی پر نہیں ہے۔

اگر ہم نے روزہ رکھا تو اللہ کیا احسان فرمایا ۔ ہمارے نبی فرماتے تھے تیرے روزے رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تیرے گن اہوں کومعاف فرمادیتا ہے۔یہ اللہ کااحسا ن ہوگیا۔ افطاری کے وقت اللہ تیری عبادت کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ اللہ کااحسان ہوگیا ہے۔ ہمارے نبی فرماتے ہیں قیامت کے دن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے جب وہ پچاس ہزار سال کو طویل جن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے نیچےدسترخوان ان کو جنت کے نعمتوں کا عطافرمائے گا۔ وہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے۔ صدقہ فطر میرے اور آپ کے کریم آقا حضرت امربن شعیب رضی اللہ عنہ اس حدیث مبارکہ کو روایت کرتے ہیں۔ کہ میرے کریم آقا ﷺ نے فرمایا : اعلان کردو۔ صدقہ فطر ہر عاقل وبالغ مسلمان جو صاحب نصا ب ہیں۔ اس پر واجب ہے۔ ہر عاقل وبالغ جو صاحب نصاب ہے اس پر واجب ہے۔ صاحب نصاب سے مراد ایسا شخص ہے کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے روپے یا مال تجارت موجود ہو۔ وہ صاحب نصاب کہلاواتا ہے۔ اگرکسی کےپاس اتنی رقم موجود ہے جس سے ساڑھے باون تولے چاندی جس زمانہ جو بھی قیمت ہے۔ دیکھا جو بھی قیمت ہے ۔

ساڑھے باون تولہ چاندی وہ خرید سکتا ہے ۔ وہ صاحب نصاب کہلاوائے گا۔ اس پر صدقہ فطر واجب ہوگا۔ صدقہ فطر کون اداکرے گا؟ کیا باپ پر اپنی اولاد پر صدقہ فطرہے وغیرہ وغیرہ ۔ باپ اگر وہ صاحب نصاب ہے اس کی نابالغ او لاد کا صدقہ فطر واجب ہے۔ والد پر اس کی نابالغ اولاد کا صدقہ فطر واجب ہے ۔ والد نہ ہو تو دادا سربراہ ہو تو دادا پر اپنے نابالغ پوتے پوتی کا صدقہ فطر واجب ہے۔ خاوند پراپنی بیوی کا صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ ماں پر اپنی اولاد کا صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ باپ پر اپنی بالغ اولاد کا صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ اگر بالغ اولاد کوئی کام کرتی ہے ۔ اس پر صدقہ فطر اس پراپنے اوپر واجب ہے۔ اگر وہ صاحب مال ہے۔ باپ پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ اگر وہ صاحب مال نہیں ہے تو پھرصدقہ فطر کسی پر واجب نہیں ہے۔ البتہ ماں یا باپ ان کی طر ف سے احسا ن کے طورپر صدقہ فطر اداکردے تو بہت بڑا ثواب ہے۔ اگر عورت کی شادی ہوتی ہے تو اس کے والدین زیور دیتے ہیں۔ اگر اس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہوجائے تو وہ صاحب مال کہلائے گی تو اس عورت پر اپنی طرف سے صدقہ فطر واجب ہے۔

صدقہ فطر کب واجب ہوتا ہے؟ صدقہ فطرکے وجو ب کا وقت عید کے دن سحری کا وقت ہے۔ جب سحری ختم ہوتی ہے۔ تو سورج طلوع ہوتاہے تو یہ وقت ہے صد قہ فطر کے واجب ہونے کا۔ جو بچہ سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پیدا ہوا تو باپ پر صدقہ فطر واجب ہے۔ اگر سحری کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ صدقہ الفطر جو صاحب نصاب ہے اس کے لیے سال گزرنا بشرطیکہ نہیں ہے۔ زکوٰ ۃ کے لیے سال کا گزرنا شرط ہے۔ صدقہ فطر کے لیے سا ل کاگزرنا شرط نہیں ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص غریب تھا۔ اس بیچارے کو اللہ تعالیٰ نے اتنا عطا فرمارکھاتھا۔ وہ بمشکل تمام اس کا گزارہ ہوتاتھا۔ عید کی رات یعنی ابھی عید کا دن طلوع نہیں رمضان المبارک کی آخری رات یا اس سے پہلے رمضان المبارک کے ایک دو دن رہتے تھے یا جب بھی لوگوں نے اس کو صدقہ فطر دے دیا اور اتنا صدقہ فطر دیا کہ وہ صاحب نصاب ہوگیا۔ یااسے والدین کی وراثت سے کچھ پیسے مل گئے یا کسی بھی طریقے سے کسی نے تحفہ دے دیا۔ یا کچھ بھی دے دیا اگر وہ اس وقت سے پہلے جب صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ اس وقت سے پہلے صاحب نصاب ہوگا تو پھر اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہوگیا۔ اگر وہ پہلے صاحب نصاب نہیں تھا۔ اس رات صاحب نصاب ہوگیا۔

اگر فجر طلوع ہونے سے پہلے صاحب نصاب ہوگیا۔ تو صدقہ فطر اس پر بھی واجب ہوگیا۔ اگر فجر طلوع ہونے کے بعد صاحب نصاب ہوا ہے۔ لو گوں نے اسے عید پر جانے سےپہلے دے دیا۔ اب وہ صاحب نصاب ہوگیا۔ اب اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ صدقہ فطر واجب ہونے کے بعد صاحب نصاب ہوا پہلے نہیں ہوا۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ صدقہ فطر نماز عید اداکرنے سےپہلے پہلے ادا کردیا جائے۔ لیکن آپ پورا مہینہ دیتے ہیں کہ مجھے ایک غریب آدمی مل گیا بیچارہ نادار ہے۔ یا غریب ہے دوائی لینے کے پیسے نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔آپ پہلے بھی رقم ادا کرسکتے ہیں صدقہ فطر کی نیت سے ۔ یعنی اسے پہلے روزے یا دوسرے روزے دے دیتے ہیں۔ اور حساب دیکھتے ہیں۔ میں نے اسے پانچ سو روپے دیا ہے ۔ یا ایک ہزار دیا ہے۔ یا دو ہزار دیا ہے۔ پھر آپ دیکھتے ہیں میرا اور میرے بچوں کا صدقہ فطر کتنا بنتا ہے؟ آپ حساب لگا لیتے ہیں۔ اگر آپ کے ادا کرلیےہیں۔ توٹھیک ہے۔ اگر کم اد ا ہوا ہے۔ تو بقیہ پھر ادا کردیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.