روزہ رکھنے سے بے اولاد افراد بھی اولاد کی نعمت پاسکتے ہیں

ماہرین طب نے کہا ہے کہ روزہ رکھنے سے روحانی تسکین کے علاوہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور معروف یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ماہ صیام کی آمد کے موقع پرکونسل کے زیراہتمام

ایک مجلس مذاکرہ بعنوان روزہ اور جدید سائنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرفو روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں۔وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے ۔انھوں نے کہا کہ افطاری کے وقت زیادہ ثقیل، مرغن اور تلی ہوئی اشیاء مثلا ًسموسے پکوڑے اورکچوری وغیرہ کے کثرت سے استعمال سے معدہ خراب ہوجاتا ہے۔ لہذا افطار کسی پھل یا کھجور سے کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: بلا شبہ بندہ کبھی اللہ کی رضامندی کا کوئی کلمہ ایساکہہ دیتا ہے کہ جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں جاتا اور اس کی وجہ سے اللہ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے اور بلا شبہ بندہ کبھی اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ گزرتا ہے کہ اس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے دوزخ میں گرتا چلا جا تاہے۔ کم بولنے و زبان کی حفاظت سے صرف دنیاوی فائدہ اور راحت ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ آخرت کی نجات اور کامیابی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا :یا رسول اللہ نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زبان کو قابو میں رکھو اور اپنے گھر میں اپنی جگہ رہو(یعنی زیادہ تر اپنے گھر میں رہو ، باہر کم نکلوکیونکہ گھر کے باہر بہت فتنے ہیں) اور اپنے گناہوں پر رویا کرو۔ لیلۃ القدر بخشش و مغفرت کی رات:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ جب رمضان کی آخری دس تاریخیں آتی تھیں

تو رسول اللہ ﷺ کمر بستہ ہوجاتے تھے۔رات رات بھر جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔اس حدیث پاک سے آخری عشرہ او رلیلۃ القدر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔آپ ﷺاللہ کی بندگی بجا لانے میں ہمیشہ انتہائی محنت کرتے تھے۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے بیان کے مطابق رمضان کے آخری دس دنوں میں آپ کی محنت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔لیلۃ القدر کی دعا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:یا رسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو مجھے اس میں کیا کہنا چاہئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یوں کہو اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوُّٗتُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی اے میرے اللہ ، تو بڑا معاف کرنے والاہے ، تو معاف کرنے کو پسند کرتاہے ، لہٰذا مجھے معاف فرمادے ۔یہ ماہ اور یہ رات خطا کاروں کے لئے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے۔ اس رات اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں

رب کریم سے التجائیں کریں، بھلائی کی التجا کریں۔ اس ماہ رحمتِ خدا وندی ہر پیاسے کو سیراب کرتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہرِ مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے۔ تمام مسلمانوں کے لئے یہ سنہرا موقع ہے رحمتیں سمیٹنے کا، خیر جمع کرنے کا، گن اہ معاف کروانے اور جنت میں جانے کا۔موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اللہ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔ آمین ثم آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.