رنگ گورا کرنے والی گو لیاں ۔

فیئر اینڈ لولی کو پاکستان اور بھارت سمیت ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں خواتین اور خصوصی طور پر نوجوان اور کم عمر لڑکیاں رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔فیئر اینڈ لولی کریم کے اشتہارات میں بھی کمپنی گوری لڑکیوں کو دکھانے سمیت گورے رنگ کو کامیابی کی ضمانت قرار دیتی رہی ہے۔

ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کی کمائی اربوں روپے ہوتی ہے اور گزشتہ چند سال سے ایسی مصنوعات کو نسلی تعصب کے خلاف قرار دے کر ان کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ فیئر اینڈ لولی پر بھی پاکستان اور بھارت سمیت ایشیا بھر میں تنقید کی جاتی رہی ہے، جس کے اب کمپنی نے اس کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یونی لیور کے بیوٹی اینڈ پرسنل کیئر ڈویژن کے صدر سنی جین نے اعتراف کیا کہ وہ ’فیئر‘ لفظ کو ’وائٹ‘ اور ’لائٹ‘ جیسا ہی سمجھتے ہیں جو خوبصورتی اور گوری رنگت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ کمپنی نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے بھی آگاہ کیا کہ جلد ہی کمپنی ’فیئر‘ ’وائٹ‘ اور’لائٹ‘ جیسے لفظوں کا استعمال بند کردے گی۔کمپنی کے مطابق مذکورہ الفاظ کی جگہ متبادل لفظ استعمال کیے جائیں گے جو رنگت کے لیے قابل قبول بھی ہوں اور ان سے نسلی تعصب بھی نہ جھلکتا ہو۔یونی لیور کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی ایک آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا گیا تھا جس میں ملٹی نیشنل کمپنی سے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کو بند یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کمپنی کب تک فیئر اینڈ لولی کریم کا نام تبدیل کرے گی اور آیا اب مذکورہ کریم کی تشہیر کے لیے ماضی کی طرح معروف بولی وڈ و پاکستانی اداکاراؤں کی خدمات حاصل کی جائیں گی یا نہیں؟کمپنی کے اعلان کے بعد بھارت و پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں لوگ کمپنی کے فیصلے کی تعریف کر رہے ہیں اور اس تبدیلی کو آغاز بھی قرار دے رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب کبھی ٹی وی پر رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کے شتہارات دیکھتے ہیں جن میں مشہور اداکارائیں اور ماڈلز رنگ گورا کرنے کے لیے کریم اور صابن استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو ہم بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان ستاروں جیسا دکھ سکیں۔رنگت سے متعلق ہمارے معاشرے میں صدیوں سے منفی رویے رائج ہیں جن کے مطابق سفید اور گورا رنگ خوبصورتی کی علامت ہے۔

یہ رویے نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا میں بھی عام ہیں اور لوگ آج کے دور میں بھی گوری رنگت کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ نوازالدین صدیقی کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے رنگ گورا کرنے کی کوشش میں اپنا بہت سارا وقت ضائع کیا ہے۔نوازالدین صدیقی نے بتایا کہ ’انہوں نے بھی اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی معجزاتی نتائج کی توقع کر تے ہوئے فیئرنس کریموں کا استعمال کیا، حتیٰ کہ انہیں یاد ہے ایک بار وہ رنگ گورا کرنے والی کریم فیئر اینڈ لولی کے دھوکے میں کسی جعلی کریم کا استعمال کیا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.