رمضان میں قرآن کی تلاوت

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا سات راتوں میں ختم کیا کر اس سے زیادہ مت پڑھ ایک دوسری روایت ہے کہ اللہ کے

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے تین دن سے کم میں قرآن کو ختم کیا اس نے اسے کچھ سمجھا ہی نہیں یعنی اس نے اسے سمجھ کر نہیں پڑھا۔مزید ایک دوسری روایت میں عبداللہ بن مسعود فرماتےہیں :جس نے تین دن سے کم میں قرآن مجید کو ختم کیا وہ راجز (رجزیہ اشعارپڑھنے والا) ہےہیثمی فرماتےہیں کہ : ” اسے طرانی نے کبیرمیں روایت کیاہے اوراس کےرجال صحیح کے رجال ہیں ۔قراٰنِ کریم کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے، قراٰنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے والے کو 10 نیکیوں کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ پیارے اسلامی بھائیو!کثرت سے قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنے اور اس کا شوق و جذبہ پانے کے لئے آئیے بعض اولیائے کرام رحمہم اللہ کے قراٰنِ کریم کی تلاوت کے معمولات پڑھتے ہیں:روزانہ دو قراٰنِ پاک پڑھنے والے بزرگ حضرت سیّدُنا ابوبکر بن عَیَّاش رحمۃ اللہ علیہ اپنے گھر کے بالا خانے (اوپر کی منزل کے کمرے) میں 60سال تک روزانہ دن اور رات میں ایک ایک قراٰنِ کریم پڑھتے رہے ۔ روزانہ ایک قراٰنِ کریم کی تلاوت حضرت سیِّدُنا ربیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ روزانہ رات کو ایک قراٰنِ پاک ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت سیّدُنا عمر بن حسین جُمَحِی رحمۃ اللہ علیہ بھی روزانہ ایک قراٰنِ مجید پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ نزع کے وقت بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زبان مبارک پر یہ آیت جاری تھی: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ترجمۂ کنزُ العرفان:ایسی ہی

کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے ۔ تین دن میں ختمِ قراٰن حضرت سیّدُنا بشر بن منصور رحمۃ اللہ علیہ ہر تیسرے دن قراٰنِ کریم ختم فرمایا کرتے تھے۔ سات دن میں ختمِ قراٰن حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ روزانہ رات کو قراٰنِ مجید کی ایک منزل پڑھتے اور یوں سات دن میں قراٰنِ کریم ختم فرمایا کرتے تھے۔(حلیۃُ الاولیاء،ج9،ص192، رقم:13658 ماخوذاً) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں بھی ایسی برکتیں دیکھنے کو ملتی ہیں جیسا کہ مفتیِ دعوتِ اسلامی و مرحوم رکنِ شوریٰ مفتی حافظ محمد فاروق عطّاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی کثرت سے قراٰنِ پاک کی تلاوت کا معمول تھا۔ ایک بار کسی کے پوچھنے پر فرمایا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں روزانہ ایک منزِل کی تلاوت کرتا ہوں۔ یوں آپ بھی سات دن ميں قراٰنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(مفتیِ دعوتِ اسلامی، ص14ملخصاً) 62ختمِ قراٰن جب رمضانُ المبارک کا بابرکت مہینا آتا تو اس میں بزرگانِ دین رحمہم اللہ دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ قراٰنِ مجید کی تلاوت کا معمول مزید بڑھا دیا کرتے تھے، جیسا کہ امام ابویُوسُف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ رَمَضانُ المبارَک میں مَع عیدالفِطْر 62 قراٰنِ پاک خَتْم فرمایا کرتے تھے، (ایک دن میں، ایک رات میں، ایک پورے ماہ تراویح میں اور ایک عید

کے دن)۔(الخیراتُ الحسان، ص50) ماہِ رمضان میں 60 بار ختمِ قراٰن کروڑوں شافعیوں کے پیشوا حضرت سیّدُنا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی رمضانُ المبارک کے مہینے میں نوافل کی صورت میں 60بارقراٰنِ کریم ختم فرمایا کرتے تھے۔(احیاء العلوم،ج 1،ص44 ملخصاً) پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی اولیائے کرام رحمہم اللہ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنے کا معمول بنانا چاہئے،زیادہ نہیں تو کم از کم شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے ایک مدنی انعام ”کیاآج آپ نے کنزُ الایمان سے کم اَز کم تین آیات (مع ترجمہ وتفسیر) تلاوت کرنے یا سننے کی سعادت حاصل کی؟“ پر مضبوطی سے عمل کیجئے، اس کی برکت سے قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنے کا ذہن بنتا چلا جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ اللہ پاک ہمیں بھی کثرت سے قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.