رمضان کریم کا خاص الخاص عمل وظیفہ کرتے ہی اللہ کی رحمت جوش میں آجاتی ہے

ارشادِ ربانی ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو!تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی اْمتوں پر فرض کئے گئے تھے، اسی سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے۔ اگر پہلے سے تقویٰ ہے تو اس کو مزید نشوونما دینا ہے تقویٰ ایک نو مسلم یا

عامی مسلمان کے لئے جس قدر ضروری ہے اُتنا ہی ایک عالم یا ولی اللہ کے لئے بھی اہم ہے۔ تقویٰ کی کوئی حد یا انتہاء نہیں،موت کے آخری لمحہ تک اور زندگی کے ہر لمحہ میں اس کا ہونا لازمی امر ہے۔ قرآن پاک میں تقویٰ کا لفظ 15 مرتبہ آیا ہے۔عبادات ہوں یا معاملات سب کی بنیاد تقویٰ ہے۔ اس سے مشتق الفاظ متقین 42 مرتبہ، متقون 19 مرتبہ، یتقِ 6مرتبہ اور یتقون 18 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے حتیٰ کہ جنت میں داخلہ بھی تقویٰ سے مشروط ہے۔ مختصر الفاظ میں تقویٰ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کیلئے کوئی عمل کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے خوف سے کوئی ناپسندیدہ کام چھوڑ دینا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نفس پر صبر کرنااور اپنے ظاہر اور باطن کو بہتر سے بہترین بنانے کی پوری کوشش کرنا۔ جس طرح انسان کا بدن لباس ہی سے زینت پاتا ہے اُسی طرح تقویٰ سے روح مزین ہوتی ہے۔ روح کی زینت کا اک مکمل تربیتی کورس رمضان المبارک میں کرایا جاتا ہے۔

رمضان المبارک میں تقویٰ پیدا کرنے کے 2واضح مقاصد ہیں۔ گزشتہ 11 مہینوں میں جو کمی کوتاہی ہو گئی اس کو ختم کر کے اصلاح کرنا۔ آئندہ 11 مہینوں کے لئے نیا کچھ سیکھنا۔ نیکیوں میں سبقت کے لئے تازہ دم ہونا۔ روزہ انسان کے باطنی اوصاف ِ حمیدہ کی اصلاح، نشوونما کا نام ہے۔کیا ہم واقعی رمضان المبارک میں اس کام کے لئے تیار ہیں؟ رمضان المبارک کا استقبال کرنے سے پہلے اپنا دل ٹٹول کر دیکھنا ہو گا کہ ہم روزے کی کون سی قسم رکھنے جا رہے ہیں۔ روزے کی کون سی کیفیت ہمارے اوپر طاری ہوتی ہے۔ جس قسم کا روزہ رکھنے کی خواہش ہو گی اسی قدر تقویٰ ہمارے اندر پیدا ہو گا۔ روزے کی 3 اقسام ہیں۔ جس روزے کا تعین کر لیا جائے گا تو ظاہری و باطنی کیفیات بھی اس کا ساتھ دیں گی۔ استقبال ِ رمضان بھی اسی انداز سے ہو گا۔ ژ عام،رسمی، انفرادی روزہ: اس کی تیاری کے لئے گھر کی صفائی، کچن میں خورد و نوش کی اضافی اشیاء، سحری افطاری کے خاص اہتمام، نماز تراویح اور قرآن پاک کی تلاوت، فارغ وقت میں سونے، ٹی وی دیکھنے وغیرہ سے کام چل جائے گا۔

یہ ایک رسمی روزہ ہے اس لئے بھی کہ اس میں صرف اپنی ذات کو اپنے یا اپنے گھر تک محدود کیا گیا ہے۔ یہ انفرادی روزہ ہے۔ عام یا رسمی روزہ سے تو عام سا تقویٰ یا رسمی تقویٰ ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ نہ اصلاح کی گنجائش ہے نہ آئندہ کیلئے کوئی نیا پن خاص،باشعوری،اجتماعی روزہ یہ خاص ا س لئے ہے کہ روح کی بالیدگی کے لئے کچھ خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مادی جسم کے خورونوش سے زیادہ۔سحری و افطاری پر پیٹ کے خالی پن کو دور کرنے سے زیادہ روح کے خلاء کو پُر کرنے کی بابت غور و فکر ہوتا ہے۔ اس میں اپنے اردگرد کے لوگوں کی ضروریات کا خیال، اپنے شہر، محلہ، وطن کے بارے میں کوئی فکر تو لاحق ہوتی ہی ہے چاہے کچھ نہ کر سکتے ہوں۔ دعاؤں میں خاص حصہ تو ہوتا ہی ہے۔ شُعوری/خاص روزہ ہو گا تو تقویٰ کی صفت بھی شعوری انداز سے بڑھے گی اور نیکی کی صفت اجتماعیت میں پھل پھول لاتی ہے۔ اجتماعی نیکیوں میں شریک ہونا مومن کی صفت ہے۔ خاص الخاص روزہ/امت مسلمہ کے جسد واحد ہونیکا احساس رکھتے ہوئے روزہ دل ہر وقت قرب الٰہی کے احساس کے ساتھ دھڑک رہا ہو

۔ اسی احساس کو لے کر جب خون سارے جسم میں گردش کرے تو خون میں گردش کی طرح پھرنے والا دشمن اپنی جگہ نہ پا سکے اور فکر، قول اور عمل تقویٰ سے مزین ہو رہے ہوں۔رمضان کریم کا خاص وظیفہ یہ ہے کہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب کو 33 مرتبہ روزانہ پڑھ لیجئے انشاء اللہ رزق میں برکت ہو گی ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.