حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا 27 رمضان نماز عشاء کے بعد یہ چھوٹی سی سورت پڑھ لینا ، مقدر بدل جائے گا

ایک مختصر سا جو عمل ہے جو سیدنا علی المرتضی کو بتایا ہوا ہے وہ بھی ضرور کرلیں۔ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور اپنی پر یشانیاں حاضر کرتے ہوئے بتاتے ہوئے عرض کرنے لگے کہ شب قدر کی کیا فضیلت ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں

نے اللہ کے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور انہوں نے فرمایا: میری امت چند راتیں ایسی رکھیں ہیں۔ جن راتوں میں اگر ایک سجدہ کریں گے۔ میں انہیں ہزاروں سجدوں کا ثواب دوں گا۔ ایک نیکی ہوگی تو ہزاروں کا نیکیوں کا ثواب ہوگا۔ ان میں شب قدر کی جو را ت ہے وہ سب سے بڑی فضیلت رکھتی ہے۔ کیونکہ اس رات اللہ زمین پر موجود پانی کو ایک لمحے کے لیے جام کوثر بنا دیتے ہیں۔ اس رات اللہ فرشتوں کو اس کام پر لگا دیتے ہیں کہ آج انسان کی مانگی ہوئی دعا کوئی رد نہ ہو۔ تو اس شخص نے کہا اے علی رضی اللہ عنہ میں بہت گنا ہ گار ہوں۔ مجھے چاروں طرف مفلسی نے ، پریشانیوں نے ، مصیبتوں نے گھیر رکھا ہے۔ مجھے اس رات کا کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے میری ہر دعا اللہ پوری کردے ۔ میری دنیا اور آخرت کامیابی سے بھر جائے ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ : شب قدر کی رات اگر کوئی انسان نماز عشاء اور فجر کی نماز سےپہلے پہلے دو سو سات مرتبہ ” سورت القدر” پڑ ھ لے۔ اور اپنے گن اہوں کی معافی مانگ کر اس رات میں نازل ہونے والے قرآن اور اللہ کا محبوب کا صدقہ دے کر جو بھی دعا مانگے گا۔ وہ کبھی رد نہیں ہوگی۔ چاہے پہاڑ جتنا سو نا ہی کیوں نہ ہو۔

توا سکے ساتھ اور عمل بھی آپ کرلیں۔ کہ قبلہ رخ جیسے ہی بیٹھے اس سورت کو پڑھ کر آپ ایک تسبیح ” استغفار ” کی لیں۔ یعنی سو مرتبہ “استغفار” کرلیں۔ “استغفراللہ رب من کل ذنب واتوب الیہ ” کا کیا فائدہ ہوگا؟ کہ آپ کی اس کے ساتھ ہر جائز دعا بھی قبول ہوجائےگی۔ اللہ رب العزت دعاؤں کو قبول کرتے ہیں۔ یہ دعاؤں کی رات ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے۔ آپ نے دیکھیں آپ کو بڑے خوش نصیب ہیں رمضان المبارک کا مہینہ ملا۔آپﷺ کی امتی ہیں۔ اس بات میں سب سےبڑا فخر ہے۔ آپ فرعون کی زندگی کو دیکھ لیں۔ جس نے خدائی کا دعویٰ کرلیا تھا۔ اس کے زمانے میں دریائے نیل بند ہوگیا۔ رات کی تنہائی میں اس نے دعا مانگی کہنے لگا یا اللہ! تو تو جانتا ہے میں نے جھوٹا دعویٰ کررکھا ہے اللہ تو ہے تو اپنی رحمت کےساتھ اس دریائے نیل کو چلا دے۔ میری بےعزتی ہے۔ مجھے لو گ کیا کہیں گے ؟ میں لوگوں کے سامنے کیا منہ دکھاؤں گا؟

میں دعوی ٰ تو خدائی کا کررہا ہوں۔ لو گ مجھے کہیں گے کہ دریائے نیل تیرے زمانے میں تیری موجودگی میں خشک ہوگیا۔ اللہ نے اس کے کہنے پر دعا مانگنے پر دریائے نیل کو چلا دیا۔ آپ توبڑے خوش نصیب ، ایمان کی دولت ، کلمے کی طاقت، محبوب حضرت محمد ﷺ جو اللہ کے سب سے بڑے اور لاڈلے پیغمبر اور پیغمبر کی امتی ہے۔ آپ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا انشاءاللہ! رائیگاں نہیں جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.