اٹھائیس انتیس رمضان نبی ﷺ کا بتا یا ہوا وظیفہ۔

رمضان المبارک کے جو پورا مہینہ ہو تا ہے اس کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ اور پھر خاص طور پر اس مہینے کی جب آخری تاریخیں ہو تی ہیں اس کی فضیلت اور پھر آخری عشرے میں بھی جو آخری آخری راتیں ہیں اور ان آخر ی راتوں میں جو طاق راتیں ہیں اس کی بہت بڑی فضیلت حاصل ہے اس میں جو

آخری طاق رات آ تی ہے وہ انتیسویں شب آ تی ہے انتیسویں شب کو اللہ کی بارگاہ میں خاص طور پر رزق کی کشادگی رزق کی فراوانی کے لیے دعائیں مانگی جا ئیں تو یہ دعا ضرور قبول ہو جا تی ہے اور اس میں بہت ہی خاص طریقہ جو کہ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا اور آپ کا یہ بتایا ہوا طریقہ وہ یہ ہے۔ کہ سورۃ الواقعہ روزانہ رات کو پڑھ لی جا ئے یہ معمول اگر بنا لیا جا ئے اپنی پوری زندگی کا تو انشاء اللہ اس کی بر کت سے رزق کی تنگی اس گھر میں نہیں ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ اٹھا ئیسویں رمضان المبارک کو اور انتیسویں رمضان المبارک کو سورۃ الواقعہ ایک ہی نشست میں بیٹھ کر کے سات مر تبہ آپ نے پہلے دن پڑھنی ہے اور سات مر تبہ دوسرے دن پڑھنی ہے تو اس کی بر کت یہ ہو گی کہ پورا سال رزق کی تنگی اس گھر میں نہیں آنے دیں گے اس گھر میں کبھی فا قہ ہو ہی نہیں سکتا جس گھر میں یہ سورۃ کا ورد کیا جا ئے۔

اور یہ ضروری نہیں کہ آپ گھر میں ہی بیٹھ کر پڑھیں مسجد کے اندر بھی بیٹھ کر پڑھیں تب بھی یہی فائدہ ہو گا گھر کے اندر بیٹھ کر پڑھیں تب بھی یہی فائدہ ہو گا اس کے علاوہ باقی کسی بھی وقت کسی بھی دن ایک ہی مجلس میں آپ سات مر تبہ پہلے دن اور سات مر تبہ دوسرے دن پڑھیں لگاتار دو دن ضرور پڑھیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو اور رزق حلال اور پاکیزہ راستوں سے آ ئے تو سب سے بہترین اور افضل وقت ہے جو ہے وہ دو دن اٹھا ئیس اور انتیس کو دو دن ، دن کے وقت یا شام کےوقت جس وقت مرضی پڑھ لیں۔

یعنی نمازِ تراویح ادا کر کے سحری کے وقت تک یا سحری کے وقت میں بھی پڑھی جا ئے تب بھی فائدہ مند ہے اور اس کی بر کت سے کبھی رزق کی تنگی نہیں ہو گی۔ اس بات پر نہیں رہیں کہ ایک ہی آدمی یہ عمل کرے گھر کے جتنے بھی آدمی ہیں سارے ہی یہ عمل کر یں مرد حضرات اکثر مساجد میں رات گزارتے ہیں رات ضروری نہیں کہ آپ مسجد میں گزاریں کوئی اجتماعی بیان ہو تا ہے وہ سن کر گھر میں آ ئیں آپ ﷺ نے فر ما یا کہ گھرو کو ق ب ر ستان مت بناؤ۔ ق ب ر ستان آپ جانتے ہیں کہ وہاں نماز نہیں پڑھی جا تی نوافل نہیں پڑھے جاتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.