رمضان کی 27 کی رات کا خوبصورت تحفہ

آج جو وظیفہ آپ کو بتائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے دو نام ہیں “یا حی یا قیوم ” ۔ یا”حی ” کے معنی ہیں اے ہمیشہ زندگی والے ۔ “یا قیوم ” کا معنی ہے۔ اے ہمیشہ قائم رہنے والے ۔ وظیفہ کرنے سے پہلے آپ کو ان دونوں ناموں کی فضیلت وبرکات سے آگا ہ کریں گے۔ “حی” وہ ذات ہوتی ہے۔جس میں زندہ رہنے

کی قوت موجود ہو۔ اس لیے “حی” صرف اللہ کی ذات ہے۔ کیونکہ وہ ذات ہمیشہ سے زندہ ہے۔ اور اب تک زندہ رہے گی۔ اور ہر چیز کی زندگی اسی کی عطا سے ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ بذات خود “حی” ہے۔ اور کائنات کی ہر چیز کو “حی”ات بخشنے والا ہےاللہ کی اس صفات سے ہر چیز “حی”ات ہے۔ اللہ پا ک کی صفت “حی” سے متعلق ایک عالم دین کا قول ہے “حی” وہ ذات ہے۔ جو تمام اموار انجام دیتی ہے۔ اور ان کا ادراک کرتی ہے۔اور یہ اسمائے جلالی ہے۔ جو شخص اس اسم کو کثر ت کے ساتھ پڑھتا رہے گا اس کے ہر مردہ کام میں زندگی پڑجائے گی۔ اس کا دل ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ا سکی روح اپنے پیداکرنے والے کی طر ف متوجہ رہے گی۔ اللہ کی نعمتوں میں سے سب سے افضل نعمت تندرستی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تندرستی ہی کام آتی ہے ۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ سے تند رستی کےلیے دعامانگنی چاہیے تندرستی قائم رکھنے کے لیے ” یا حی یا قیوم” کو روزانہ ایک سو مرتبہ پڑھنے کامعمو ل بنالے۔ انشاءاللہ! اللہ کریم آپ کو تندرست رکھے گا۔ اگر کوئی بیمار ہوگا تو اس کو بیماری سے شفاعت ملے گی۔ اس کے علاوہ اس عمل کو کرنےسے آپ تمام حادثا ت سے محفوظ رہیں گے ۔ اگر آپ آپریشن میں کامیابی چاہتے ہیں۔ آپ کو آپریشن میں کامیابی ملے گی۔ جن لوگوں کو فالج نے اٹیک کردیا ہے۔ اس حصے پر “یا حی یا قیوم ” پڑھ کر دم کرے ۔ جو بے جان ہوگیا ہے اس میں جان آنا شروع ہوجائےگا۔ اب آپ کو “قیوم ” کے خواص بتاتے ہیں۔ “قیوم” وہ ذات ہے جو اپنی ذات میں خود بخود قائم ہو۔ اپنے قیام میں کسی کا محتاج نہ ہو۔ دوسرا اس کے بغیر قائم نہ رہ سکتا ہو۔ بلکہ ہر چیز اپنے آپ کو قائم رکھنے کےلیے اس کی محتاج ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قائم ودائم ہے۔ موجود ہے اللہ لازوال ہےخود ارشادباری تعالیٰ ہےکہ: اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بلکہ وہ زندہ اور قائم ہے۔ اس سے معلوم ہو ا کہ معبود ہونے کا وسط یہ ہے وہ ہمیشہ کے لیے قائم ہے۔یعنی جو ذات ہمیشہ کےلیے قائم نہ ہو وہ معبود کیسے بن سکتی ہےاللہ ہمیشہ سے قائم ہے۔ اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ اسی لیے معبود رہنے کا حق اس کو پہنچتا ہے۔ اب آپ کو وظیفہ بتاتے ہیں۔ آپ نے اس عمل کوپڑھنا کس طریقے سے ہے ۔ 26 رمضان والے دن پورے دن میں آپ نے اس عمل کوچلتے پھرتے ،اٹھتے بیٹھتے جب آپ کا دل چاہے آپ اس عمل کو کرسکتے ہیں۔

یعنی آپ کےپاس 26 رمضان کا پورا دن ہوگا۔ جب مرضی آپ اس عمل کوکرسکتے ہیں ۔بلکہ 27 ویں شب کو اس عمل کو کرسکتے ہیں۔ جسے ہم 27 ویں کی رات کہتے ہیں۔ 26 رمضان المبار ک کی رات 27 ویں کی رات ہے ۔ آپ رمضان المبارک کے 27 کے دن سے لے کر رات تک آپ اس عمل کو کرسکتے ہیں۔ بلکہ 27 رمضان کو بھی اس عمل کو کرسکتے ہیں۔ آپ نے کرنا یہ ہے کہ آپ ایک ہزار مرتبہ ” یا “حی” یاقیوم” کا ورد کرناہے۔ اول وآخر اکیس اکیس مرتبہ درودابراہیمی پڑھناہے۔ اس عمل کوکرنے کے لیے درودابراہیمی شرط ہے۔ آپ نے اس عمل کو جب کرنا ہے اکیس مرتبہ شروع میں اکیس مرتبہ آخر میں آپ نے درود پاک پڑھ کر درمیان میں ایک ہزار مرتبہ آپ نے ان دو اسمائے اعظم کو پڑھناہے۔ یہ اسمائے جلالی ہیں۔ اس کے بہت ہی زیادہ فوائد ہیں۔ اس عمل کوپڑھ کر سر سجدے میں رکھ کر اللہ تعالیٰ سے آپ نے خصوصی دعاکرنی ہے۔ مولا تو ہمیشہ قائم ودائم رہنے والا ہے۔زندہ رہنے والا ہے۔ ہمیں تندرستی اور صحت والی زندگی عطافرما۔ اور ہمیں ایسی زندگی عطافرما کہ ہم تیری عباد ت میں گزاریں ۔جو بیمار ہیں ان کو شفاعت عطافرما۔ ہماری پریشانیوں کودور فرما۔ ہمیں اپنے خزانوں سے عطافرما۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.