اس26اور27رمضان سورت فاتحہ کی آیت پڑھنے کا حیران کن سچا واقعہ

یہ رمضان المبارک کا مبارک مہینہ جاری ہے۔ اس میں دو راتیں ایسی ہیں وہ بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک 26ویں اور 27 ویں شب یہ بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ راتیں ہماری زندگی میں آنے والی ہیں۔ ان راتوں میں ایک وظیفہ جو تمام تر پریشانیوں کو ہمیشہ کے لیے تمام پریشانیوں کو ختم کرکے رکھ دے گا۔ نہ صرف

پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔ بلکہ اس کے چار بڑے فائدے جو ہیں ۔ وہ دنیا میں ہمیں مل کر رہیں گی۔ پہلا فائدہ اللہ تعالیٰ مرتے دم تک کسی کا محتا ج نہیں کریں گے ۔ انسان لازمی نہیں کہ معاشی طور پر کسی دوسرے کا محتاج ہو۔ بعض اوقات بہت اچھا بزنس ہوتا ہے۔ لیکن اس کو ایسی بیماری لگ جاتی ہے کہ وہ پیشاب کرنے میں بھی دوسرے کا محتاج بن جاتا ہے۔تویہ عمل کرنے والا اللہ تعالیٰ اس کو مرتے دم تک کسی کا محتا ج نہیں کریں گے ۔ اس کو وافر مقدار میں رزق عطافرمائیں گے ۔ تیسرا فائدہ مرتے وقت زبان پر کلمہ جاری ہوگا۔ چوتھا فائدہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے دل میں اس کے لیے محبت ڈال دیں گے ۔ اور اس کو عزت کی نگا ہوں سے دیکھیں گے ۔ اب یہ کتنا بڑا فائدہ ہے۔ اب وہ دو دنوں میں جو عمل ہے وہ یہ ہے۔ ان دو راتوں میں “سورت الفاتحہ” کی دو آیات ہیں۔ آ پ نے “الحمد اللہ رب العلمین، الرحمین الر حیم “ان دوآیات کو آپ نے ہزار مرتبہ پہلے دن اور ہزار مرتبہ دوسرے دن چھبیسویں کی شب اور ستائیسویں کی شب آپ نے پڑھناہے۔ اور پھر آپ کےلیے جو بھی پریشانی ، جو بھی حاجت ہے۔ آپ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں ۔ آپ کی پہاڑ جتنی پریشانی ہو گی تو رب کعبہ کی قسم ! آپ کی پریشانی جڑ سے ختم ہوجائے گی۔ مجھے اب بھی یاد ہے۔ کہ ایک بھائی کو جب بتایا تھا کہ رمضان کے شروع دنوں میں بیٹے کو ڈانٹا اور کسی حرکت کی وجہ سے جو مجھے پسند نہ آئی میں نے اسے ڈانٹ۔ا میرے غ صہ کرنے پر کہنے لگا۔

میں گھر چھوڑ کر جارہا ہوں۔ میں نے بھی یہی کہا کہ چلے جاؤ۔ میرے ذہن میں یہی تھا۔ کہ تھوڑی دیر بعد جائے گا۔ گھوم کر پھر واپس آجائے گا۔ اس کی والدہ پاس بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ کچھ وقت گزرا۔ ہم نے کہا پھر واپس آجائےگا۔ یوں کرتے ایک دن گزر گیا۔ والدہ ت۔ڑپ اٹھی اس نے کہا میرا بیٹا پتہ نہیں کس حال میں ہے ۔ واپس آئے گا یا نہیں آئے گا۔ میں نے اس کے تمام رشتہ داروں کو فون کرکے اس کی خیریت کے بارے میں پتہ کیا لیکن ہر جگہ یہی جواب آیا کہ یہا ں پر نہیں ہے۔ ایک ہفتہ گزرا تھانے میں رپورٹ درج کروائی ہماری پریشانی بے حد بڑھ رہی تھی۔ کوئی ہسپتا ل ایسا نہیں چھوڑا جہاں ہم نے معلوم نہ کیا ہو۔ لیکن کسی جگہ بیٹے کاسراغ نہ ملا۔ ناجانے بیٹا کہاں چلا گیا؟ پھر اسی پریشانی میں تھے کہ کسی نے آپ کی درس کی ریک۔ارڈنگ دکھائی جس میں 26اور 27 رمضان سورت فاتحہ کی ان دو آیات کا عمل بتایا تھا۔

میں نے وہ کیا اس کی والدہ نے بھی کیا۔ ایک دن ہوا کرنے کے ایک دن بعد اس کی ماں افطاری بنا رہی تھی ۔ کہ بیٹا واپس لوٹ آگیا۔ اس کی ماں حیران ہوگئی۔ اس کے لیے خوشی کی کوئی انتہاء نہ تھی۔ بیٹا واپس آگیا۔ الحمداللہ اسی وقت اس کی والدہ سجدے میں پڑگئی۔ میں نے بھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر اد ا کیا۔ میر ے دل سے آپ کے لیے بے حد دعائیں نکلیں۔ یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں ایسے واقعے ہیں۔ جس بہن بھائی نے یہ وظیفہ کیا اللہ تعالیٰ اس کی قسمت بدل کر رکھ دی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.