شوگر کا جڑ سے خاتمہ

تاہم اگر آپ اکثر بلڈ شوگر کو چیک کراتے رہتے ہیں اور ہر بار اس میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔سی فوڈ بشمول مچھلی متعدد اقسام کے پروٹین، صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے

پروٹین ضروری جز ہے جو کھانے کے بعد اس کے ہضم ہونے کی رفتار سست کرنے کے ساتھ بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کی روک تھام کرتا ہے جبکہ پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے کا احساس بھی بڑھاتا ہے۔مزید براں پروٹین بسیار خوری کی روک تھام کے ساتھ اضافی جسمانی چربی کو گھلانے میں بھی مدد دیتا ہے، یہ دونوں صحت مند بلڈ شوگر کی سطح کے لیے ضروری ہیں۔ چربی والی مچھلی کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ہے۔موٹاپے کے شکار افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 750 گرام مچھلی کھانے سے کھانے کے بعد بلڈشوگر لیول کی سطح میں نمایاں حد تک بہتری آتی ہے۔میٹھے کدو میں فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اچھا انتخاب ہے۔کدو میں ایسے کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں، جانوروں اور انسانوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کدو کے ایکسٹریکٹ اور سفوف بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔تاہم اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے کہ کدو کو کس شکل میں کھانا بلڈ شوگر کے حوالے سے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

کدو کے بیج بھی صحت بخش چکنائی اور پروٹینز سے بھرپور ہوتے ہیں اور بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے بہترین ہیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 65 گرام بیجوں کا استعمال کھانے کے بعد بلڈشوگر کی سطح میں 35 فیصد تک کم لاسکتا ہے۔گریاںتحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ گریاں کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مونگ پھلی اور بادام کی کچھ مقدار کو دن بھر کھانا خالی پیٹ اور کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ایک اور تحقیق میں دریافت کای گیا کہ روزانہ 56 گرام گریوں کو کھانا خالی پیٹ بلڈ شوگر اور ہیموگلوبن اے 1 سی کو نمایاں تک کم کرتا ہے، یہ ہیموگلوبن طویل المعیاد بنیادوں پر شوگر کنٹرول کا ایک اشارہ ہوتا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بھنڈی درحقیقت ایک پھل ہے مگر اسے بیشتر افراد سبزی سمجھتے ہیں؟ یہ بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے والے اجزا جیسے فللیونوئڈز آینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہے۔ترکی میں تو بھنڈی کے بیج عرصے سے ذیابیطس کے علاج کے لیے قدرتی ٹوٹکے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں کیونکہ وہ بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بھنڈی میں موجود پولی سیکرائڈ نامی کاربوہائیڈریٹس کو ذیابیطس کش مرکب مانا جاتا ہے جبکہ اس میں موجود فلونوئڈز اور دیگر اجزا بھی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔جانوروں میں تحقیقی رپورٹس میں اسے بلڈ شوگر میں کمی کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے مگر انسانوں پر اس حوالے سے زیادہ کام نہیں ہوا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.