اس22،23،24 رمضان کا وظیفہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ساتھ ہی لاکھوں حاجت پوری

آج میں آ پ کی خدمت میں ایک بہت ہی اہم وظیفہ یہ بہت کامیاب اور مجرب وظیفہ ہے۔ اس کو لے کرحاضر ہوئے ہیں۔ وہ وظیفہ “سورت انفطار ” کے متعلق ہے۔ اس سے پہلے جو بتایا گیا ہے۔ وہ آ پ گیارہ مہینوں میں جب چاہیں کرسکتے ہیں ۔ اور یہ “سورت انفطار ” کے متعلق ہے۔ لیکن اس کا تعلق رمضان المبارک

کے اندر ہے۔ رمضان المبار ک کے کسی بھی عشرے میں اس وظیفے کو کیا جائے تو بہت ہی مجرب اور کارآمد ہے خصوصاً آخری عشرے میں یہ وظیفہ بہت ہی طاقت ور ہے۔ اس کے فائدے کیا ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ رزق سے متعلق کسی بھی لحاظ سے کسی بھی معاملے کی وجہ سے رزق کی کوئی پریشانی ہے۔ رزق کی کوئی تنگی ہے۔ اللہ رب العزت اپنی رحمت سے رزق کی تنگی کو دور کردیں گے۔ اب اس تنگی کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ جیسی بھی کوئی وجہ ہے۔ انشاءاللہ! اس کی اتنی بڑی برکت ہے کہ یہ وظیفہ کرنے کی دیر ہوگی اور آپ کو خوشحالی کے اثرات خود نظرآنا شروع ہوجائیں گے۔ تنگی دور ہوتی ہوئی آپ کو خود نظر آجائےگی۔ اللہ کی جانب سے رحمت اور برکت آپ کو خود نظر آئے گی۔

ایک تو سب سے بڑا فائدہ آپ کوبتایا ہے رزق کی ہرطرح کی تنگی اس سے دور ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آ پ کی کوئی بھی حاجت کوئی بھی ضرورت ہے۔ اس کے دل کے اندر تصور رکھ کر پڑھیں۔ انشاءاللہ! وہ آپ کی حاجت اس عمل کے وجہ سے پوری ہوجائےگی۔ اب آپ کو اس کا طریقہ بتارہے ہیں۔ اس کو اچھی طرح سے سمجھ لیں۔ تاکہ آپ سے کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ گھر میں سے اگر کوئی ایک آدمی پڑھتا ہے ۔ وہ مرد ہے یا عورت ۔ دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ “سورت انفطار ” آپ نے ستر مرتبہ پڑھنی ہے۔ ستر کی تعداد آپ نے تین دن کے اندر اندر پوری پڑھنی ہے۔ یہ دن میں پڑھناہے۔ رات میں نہیں پڑھناہے۔ اس چیز کا بھی خیال رکھناہے یعنی طلوع آفتا ب سے لے کر غروب آفتا ب تک پورے دن کے اندر جب مرضی ہے۔ پڑھ لیں۔ ا

گر پڑھنے کی تعدا د کم یا زیادہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ تین دن میں آپ نے ستر کی تعداد پوری کرنی ہے۔ پانچ سات مرتبہ کم یا زیادہ ہوجائے تب بھی کوئی حرج نہیں لیکن تیسرے دن افطاری سے پہلے پہلے آپ نے اس عمل کو ختم کر لینا ہے۔ مکمل طریقے سے پڑھ لینا ہے۔ اگر آپ رمضان کو شروع کرتے ہیں۔ تو 22 پہلادن، 23دوسرادن اور 24رمضان المبارک کو آپ نے افطار ی سے پہلے پہلے ختم کر لینا ہے۔ افطاری کے وقت آپ نے سکون سے تسلی سے اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاجت اور ضرورت یا آپ کا جو بھی معاملہ ہے۔ آپ اس کو پیش کرکے خصو صی طور پر دعا مانگ سکیں۔ وہ دعا آپ کی اتنی طاقت ور ہوگی انشاءاللہ ! آپ کے منہ سے وہ لفظ نکلے ہوئے رائیگا ں نہیں جائیں گے ۔ان کا اثر آپ کو بہت بہت نظر آجائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.