جان بوجھ کر کئی سال روزے نہیں رکھے۔

جان بوجھ کر رمضان کے روزے نہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے ؛البتہ بعض اعذار کی صورت میں ترک کی گنجائش ہے اور بہر صورت چاہے انسان جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے یا اعذار کی بناپر نہ رکھے کفارہ کاحکم نہیں ہے بلکہ جتنے روزے رکھنے سے رہ گئے ہوں اتنے روزے رکھ لینا فراغِ ذمہ کے لیے کا فی ہوگا،

اور قضا میں تسلسل ضروری نہیں متفرقا بھی قضا روزہ رکھنے کی گنجائش ہے ؛البتہ اگر کسی نے روزہ رکھنے کے بعد بغیر سخت مجبوری یا شرعی اجازت کے روزہ توڑ دیا ہو تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے اور کفارہ یہ ہے۔ کہ آدمی مسلسل ساٹھ روزے رکھے اگر اس کی وسعت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت کھانا کھلائے۔ اور اگر کسی نے کئی روزے اس طرح توڑ دیے ہوں اور روزہ توڑنا جماع کے علاوہ سے ہو تو ایک کفارہ دیدینا سب کی طرف سے کفایت کرجائے گا۔ ر اس دن کے بدلے جس میں جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا ہے۔ ساٹھ فقیر کو کھانا کھلائے یا انھیں سب کو ۷۵۰ گرام گیہوں، روٹی، چاول وغیرہ دے ھولے سے کھا لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا جس کے ذمے ماہ مبارک کے روزے ہوں اس کے لیے مستحب روزے رکھنا صحیح نہیں ہے، اس کا روزہ باطل ہے ن کی زندگی میں جایز نہیں ہے۔

جس شخص نے جان بوجھ کو روزے نہیں رکھے ہوں اس کا کیا حکم ہے؟جواب: توبہ اور استغفار کریں اور اگر کوئی ماہ رمضان کے روزے کو کھانے، پینے، جماع، استمنا‎‏ء کے ذریعے ۔ یہ جانتے ہوۓ‎ کہ یہ چیزیں روزے کو باطل کرتی ہیں۔ باطل کرے تو قضاء اور کفارہ دونو واجب ہے، اور احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم ہے اگر مسئلہ سے جاہل ہو لیکن اپنے جہل میں معذور نہ ہو اور احتمال دے رہا ہو کہ یہ کام روزے کو باطل کرتا ہے تو اس صورت میں قضاء اور کفارہ دونو واجب ہے۔او ماہ رمضان کے کفارے میں کافی ہے کہ ساٹھ غریب جن میں سے ہر ایک کو ایک مد طعام (۷۵۰ گرام گیہوں یا آٹا یا روٹی، یا چاوہ وغیرہ) دے اور اگر اس کی قضاء بجا لانے میں آیندہ سال ماہ رمضان تک تاخیر کرے تو واجب ہے۔

کہ قضاء بجا لانے کے علاوہ ہر دن کے بدلے ایک مد طعام ( کفارہ تاخیر) غریب کو دے لیکن اگرایک سال سے زیادہ بھی تاخیر کرے تو کفارہ تکرار نہیں ہوگااور اگر قضاء بجا لانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اپنے وصیت نامہ میں ذکر کرے کہ مرنے کے بعد حتما اس کی طرف سے قضاء کریں۔ بیوی شرہر کی اجازت کے ب‏‏غیر قضاء روزے رکھ سکتی ہے؟جواب: عورت کے لیے ماہ رمضان کا قضاء روزہ رکھنا اگر شوہر کی کسی بھی طرح کی حق تلفی ہو رہی ہو تو جایز نہیں ہے بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر اگر شوہر منع کرے تو بھی روزہ نہ رکھے گر چہ شوہر کی حق تلفی نہ بھی ہو رہی ہو، ہاں اگر روزہ رکھنا ہمیشہ شوہر کی حق تلفی کا باعث ہو یا ہمیشہ کے لیے منع کرے جو واجب کے فوت ہونے کا باعث ہو تو اس کی اطاعت جایز نہیں ہے روزہ صحیح ہے، اور اسی طرح اس کی اطاعت کرنا قضاء کرنے میں اتنی تاخیر کا باعث ہو جو واجب کے ادا کرنے میں کوتاہی شمار ہو تو بھی جائز نہیں ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.