اکیس رمضان سے تیس رمضان تک۔ صرف دو بار پڑھ کر آز ما لیں۔

آج کا یہ عمل آج کا یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ خاص ہے بہت ہی زیادہ پاور رکھتا ہے طاقت رکھتا ہے اکیس رمضان سے لے کر تیس رمضان کے درمیان آپ لوگوں نے اس وظیفے کو کر لینا ہے اس عمل کو پڑھ لینا ہے اکیس رمضان سے لے کر تیس رمضان کے درمیان آپ کو جب بھی موقع ملے جب بھی وقت ملے

جب بھی ٹائم ملے آپ لوگوں نے صرف دو بار یہ وظیفہ پڑھ لینا ہے انشاءا للہ میرے مالک کے فضل سے میرے مالک کے کرم سے غربت ختم ہو جا ئے گی تنگ دستی ختم ہو جا ئے گی اگر دولت نا ہونے کی وجہ سے آپ بہت پریشان ہیں گھر کے حالات بہت خراب ہیں کاروبار بند ہو چکا ہے۔ کہیں سے بھی پیسوں کا دولت کا انتظام نہیں ہو رہا تو اللہ پاک کی ایسی مدد دیکھیں گے کہ آ پ کے ہاتھوں میں دولت آ جا ئے گی اس عمل کی بر کت سے اللہ پاک آپ کو بے شمار دولت سے نواز دے گا اللہ کی ذات پر اللہ کی رحمت پر پورابھروسہ رکھتے ہوئے یہ عمل پڑھ لینا ہے کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ تیسرا عشرہ اور آخری عشرہ جہ نم کی آ گ سے نجات کا شروع ہو چکا ہے یہ بڑی ہی عظمتوں والا عشرہ ہے کیونکہ یہ آخری عشرہ ہے اس لیے اس میں ثواب بھی زیادہ ہے اور نجات بھی زیادہ ہے اس عشرے میں شبِ قدر کی رات بھی موجود ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ لوگ اس عشرے میں خصوصی عبادت کر تے ہیں۔

اپنی بخشش کے لیے اپنے گ ن ا ہ وں سے توبہ کرنے کے لیے اپنے گ ن ا ہ وں کی بخشش کے لیے خصوصی اس عشرے میں یہ دعا مانگتے ہیں آپ کو پتہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں ایک رات شبِ قدر ہے جو بہت ہی خیر و بر کت والی ہے اور جس میں عبادت کرنے کو ہزار مہینوں سے افضل بتا یا گیا ہے نبی پاک ﷺ کے ارشادا ت سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے لہٰذا اس آخری عشرے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں پانچووں نمازوں کا با جماعت ادا کر یں رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزاریں۔۔

پتہ نہیں یہ رمضان بعد میں نصیب ہو یا نہ ہو اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کر یں اور قرآنِ پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کر یں میں اپنے ان بھائیوں ان بہنوں اور دوستوں کو بہت زیادہ پریشان ہیں اپنے کاروبار اپنی بیوی بچوں کی وجہ سے پریشان ہیں ان کو آج میں ایک عمل بتانے جا رہا ہوں۔ آپ نے یا اللہُ یا سلامُ یا مومنُ ماہ ِ رمضان کے اس آخری عشرے میں ان آخری روزوں میں آپ لوگوں نے کسی بھی وقت صرف دو تسبیحات اللہ پاک کے ان اسما ئے مبارک کی پڑھ لینی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.