”سحری اور افطاری میں صرف 3 مرتبہ یہ دعا پڑھ لو“

افطارکے وقت جو دعا مسنون ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:اللَّھُمَّ لَکَ صُمْتُ، وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْت کذا في مشکاة المصابیح عن أبی داوٴد مرسلاً وقال الألباني في التعلیق علی المشکاة: رواہ أبو داوٴد مرسلاً ولکن لہ شواہد یقوي بہا․ اور اس دعا میں وبک آمنت وعلیک توکلتُ کا اضافہ جامع الرموز میں قہستانی نے ذکر کیا ہے۔،

لیکن حدیث کی کتابوں میں مجھے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا؛ بلکہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات المفاتیح میں اورحضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ نے حصن حصین مترجم کے حاشیہ میں اس اضافہ کو بے اصل قرار دیا ہے اور حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ نے جواہر الفقہ میں صرف مسنون الفاظ ذکر فرمائے ہیں اور بصوم غدٍ نویت من شہر رمضان سحری کی دعا نہیں ہے؛ بلکہ یہ عربی میں نیت کے الفاظ ہیں اور آدمی حسب سہولت اردو یا عربی جس میں چاہے نیت کرسکتا ہے؛ بلکہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں، اور اگر کوئی دلجمعی وپختگی کے لیے کہہ لے تو ناجائز بھی نہیں۔اکثر لوگ اپنے بیٹی بیٹوں کے رشتوں کے معاملات میں پریشان ہوتے ہیں تو ان کے لئے اس تحریر میں ایک وظیفہ پیش کی جارہا ہے سحری و افطاری میں اس کے لئے بہت سے وظائف بتائے جاتے ہیں اس تحریر میں افطاری سے پہلے کا ایک وظیفہ
بتایا جائے گا ۔ اس سے پہلے سحری و افطاری کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ فرما لیجئے ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔حضرت سہل بن

سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت نے سحری کھائی۔جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔ابو حازم نے حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا۔ پھر جلدی کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھ سکوں۔ابو عطیہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے، ہم نے عرض کیا: اے اُم المومنین! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو اصحاب میں سے ایک جلد روزہ افطار کر کے جلد نماز پڑھتے ہیں، دوسرے تاخیر سے روزہ افطار کر کے تاخیر سے نماز پڑھتے ہیں۔

ام المومنین نے پوچھا: وہ کون ہے جو جلد افطار کرتا اور جلد نماز پڑھتا ہے! ہم نے عرض کیا: وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں! حضرت عائشہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا۔ ابو کریب کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے صاحب حضرت ابو موسیٰ ہیں۔ضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے سب سے پسندیدہ بندے وہ ہیں، جو روزہ جلد افطار کرتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر کیا کرتے ہیں۔سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا تو فرمایا: صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔وظیفہ یہ ہے کہ آپ نے سحری سے دس سے پندرہ منٹ پہلے فری ہو کر باادب بیٹھ جانا ہے اور اللہ کا صفاتی نام یا مغنی کو 71 دفعہ ورد کرنا ہے اور اول و آخر 11 گیارہ بار ورد کرنا ہے اور پھر اللہ سے دعا کرنی ہے یہ وظیفہ میرا آزمایا ہوا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.