نادِ علی ؑ کا خاص وظیفہ۔ رمضان کی آخری راتوں میں ضرور کر نا۔ کائنات کی ہر چیز مل جا ئے گی۔

امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں ایک شخص آ یا اور دستِ ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا اے نواسا رسول اس رمضان کے مہینے میں کوئی ایسا وظیفہ ہے کوئی ایسا عمل ہے کوئی دعامانگنے کا ایسا طریقہ ہے جس کے وسیلے سے وہ دعائیں پوری ہو جا ئیں جو نا ممکن ہیں بس یہ کہنا تھا تو امام جعفر صادق ؑ

نے فر ما یا اے شخص اگر کو ئی انسان رمضان کی آخری راتوں میں افطار کے فوراً بعد ایک سو نادِ علی صحیح پڑھے اور پھر محمد کا واسطہ دے کر وہ دعا مانگے جو نا ممکن ہو اللہ پاک اس کی دعا کو پورا کرنے کے لیے آسمان سے ستر ہزار فرشتے بھیج دے گا جو تب تک زمین پر رہیں گے۔ جب تک اس کی دعا پوری نہیں ہو جا تی رمضان کی آخری راتوں میں نادِ علی کا ورد انسان کی منزل میں وہ فراوانی بخشتا ہے جو انسان تصور بھی نہیں کر سکتے تو اس نے کہا اے نواسا رسول ﷺ اس نادِ علی کے وظیفے کا کوئی خاص وقت ہے امام جعفر ؑ نے فر ما یا رمضان کی آخری راتوں میں افطار کے فوراً بعد عشاء سے پہلے اس وقت کا انتخاب تمہاری دعاؤں کو وہ منزل دے گا جو تم اپنے لیے چاہتے ہو۔ اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں توحید، نماز، زکاة اور حج کے ساتھ ماہ رمضان کے روزوں کا بھی شمار ہے ۔ ماہ رمضان بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔

اس مہینہ میں اہل ایمان کی طرف اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث و آثار میں رمضان شریف کے بڑے فضائل اور برکات مذکور ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان کے تین عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور ہر ایک پر خصوصی رنگ غالب ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کاہے، دوسرا عشرہ مغفرت کااور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔

احادیث میں ذکرہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے سنن ابن ماجہ ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں بھی اسی مفہوم کی احادیث مروی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے اخری عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جاتے تھے۔دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.