امام علی ؑ کی شہادت۔ اکیس رمضان سے پہلے یہ کام واجب ہے۔

مولا علی ؑ یتیموں مساکین سے بہت پیار کر تے تھے اس سوچ کے ساتھ ہم زیادہ سے زیادہ ہم گاؤں دیہات میں جا رہے ہیں اور فی سبیل اللہ راشن آٹا تقسیم کر رہے ہیں تا کہ مو لا علی ؑ کی سنت پر عمل کر تے ہو ئے زیادہ سے زیادہ مساکین میں راشن آٹا تقسیم کر سکیں آپ بھی اپنے علاقے میں ضرور دیکھیں

کوئی علاقہ کوئی گاؤں دیہات میں ضرور دیکھیں اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس وبا کی وجہ سے مسلسل ہمارے مستحق لوگ فاقہ کشی میں مبتلا ہیں یہ وہ وقت ہے جس میں ان لوگوں کو ہم سب کی بے حد ضرورت ہے اگر ہم سب ایک دوسرے کی مدد کر یں تو اس سے کیا ہو گا۔ اس سے یہ کر شمہ ہو جا ئے گا کہ ہر کسی انسان کے جو مسئلے مسائل ہیں وہ حل ہو جا ئیں گے اللہ ہم سے راضی ہو جا ئے گا اللہ کے محبوب نے فر ما یا رمضان المبارک میں ایک نیکی کے بدلے ستر گنا زیادہ ثواب عطا کر تا ہے تو اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ مستحق لوگوں کی مدد کر یں تا کہ اللہ آپ کے روزے قبول کر ے ۔ اور تجھے واسطہ ہے حضرت علی ؑ کا کہ جن کے تعاون سے ہم یہ نیک کام کر رہے ہیں انجام دے رہے ہیں ان کی دعائیں اپنے دربار میں قبول فر ما ئے اور جو ہمیں دیکھ رہے ہیں ان کی دعا تیرے دربار میں قبول فر ما۔

حضرت امام علی مرتضی علیہ السلام پہلے امام، رسول خدا کے داماد ، کاتب وحی، حضرت فاطمہ(س) کے شریک حیات اور گیارہ آئمہ معصومین کے والد اور جد امجد ہیں ۔ تمام مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی اور شہادت مسجد کوفہ میں. رسول اللہؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو ان پر سب سے پہلے آپ نے اپنے ایمان کا اظہار کیا. قرآن کریم کی صریح آیات کی روشنی میں آپ کی عصمت ثابت ہے۔ قرآن مجید کی تقریبا 300 آیات کریمہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ مواخات مدینہ میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوئی تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ آپ اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار تھے اور جنگ تبوک کے سوا پیغمبر اکرم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک تھے۔

جنگ تبوک میں رسول اللہؐ کے فرمان پر مدینے میں رہے۔کلام، تفسیر اور فقہ سمیت بہت سے علوم کا سلسلہ آپؑ تک پہنچتا ہے اور مختلف مکاتب فکر اپنا سلسلہ آپ ہی سے ملا دیتے ہیں۔ آپ غیر معمولی جسمانی قوت کے مالک، بہت زیادہ بہادر اور ساتھ ساتھ حلیم و بردبار، درگذر کرنے والے، مہربان اور حسن سلوک رکھنے والے اور صاحب ہیبت تھے۔ آپ چاپلوسوں کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آتے تھے اور لوگوں کو حکومت اور رعایا کے دوطرفہ حقوق کی یادآوری کرتے تھے اور ہمیشہ کے لئے نہایت سختی سے نفاذ عدل پر قائم رہے۔حسب و نسب آپ کا نسب علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قُصَی بن کلاب، ہاشمی قرشی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.