رمضان میں جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد ایک تسبیح پڑھ لو

درود پاک کے کچھ فضائل اور اس وظیفے کے بارے میں بتاتے ہیں جو آپ نے جمعہ والے دن عصر کے بعد کرناہے۔ جس سے آپ کے مال اور رزق میں برکت ہوگی۔ اور خیر خیر ہوگی۔ اور شر آپ سے دور ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضوراقد س ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ :جو شخص جمعہ کے

دن نماز عصر کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسی مرتبہ یہ درود شریف پڑھے۔ اس کے اسی سال کے گن اہ مع اف ہوں گے ۔ اور اسی سال کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مجھ پر درود پڑھنا پل صراط پر گزرنے کے وقت نور ہے۔ جمعہ والے دن عصر کی نماز کے بعد جو ساعت ہے جو گھڑیاں ہیں۔ ان کو خاص فضیلت حاصل ہے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن بارہ ساعت کا ہوتاہے۔ ان میں سے ایک ساعت یعنی ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس وقت کوئی مسلمان بندہ اللہ سے کچھ مانگے اس کو ضرور بالضرور دیا جاتا ہے۔ پس اس گھڑی کو عصر کے بعد آخری وقت میں تلا ش کرو۔ آ پ نے مال وبرکت میں خیر وعافیت کے لیے یہ وظیفہ کرناہے

کہ جمعہ کے دن عصر کی نما ز بعد اس جگہ پربیٹھ جاناہے اور نماز عصر کے بعد آپ نے ایک تسبیح ور دکرنی ہے “یا اللہ ، یا رحمان، یا رحیم ، یاکریم” ۔ عصر کی نماز کے بعد آپ نے یہ ایک تسبیح کرنی ہے۔ انشاءاللہ! اس سے آپ کے رزق میں برکت ہوگی۔ عمل میں برکت ہوگی۔ جو شر ہیں وہ آپ سے دور چلے جائیں گے۔ اور خیر ہی خیر اور عافیت کا معاملہ ہوگا۔ یہ وظیفہ جو ہے اس کو خاص عصر کے بعد تاکید کی گئی ہے۔ اور اس کے لیے عصر کی نماز پڑھنا بے حد ضروری ہے یعنی آپ نماز پڑھے بغیر یہ وظیفہ کریں گے ۔ یہ وظیفہ کارآمد نہیں ہوگا۔ عصر کی ایک خاص فضیلت ہے ۔ حضرت فضائلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے باتیں سکھائیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظ کرو۔
میں نے کہا کہ یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت زیادہ کام ہوتے ہیں ۔ آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجیے۔ کہ میں جب اس کو کروں تو

مجھے کافی ہوجائے ۔آ پﷺنے فرمایا: کہ عصرین پر محافظت کرو۔ عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا اس لیے میں نے پوچھا کہ حضور “عصرین کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو نما ز ایک سورج نکلنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے سےپہلے ۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ فجرکی نماز اور عصر کی نماز بہت ساری چیزوں سے کافی ہوجائے گی لیکن اس کاہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ بقیہ تین نمازیں ظہر ، مغرب اور عشاء نہیں پڑھنی ہیں ۔ بلکہ وہ بھی پڑھنی ہے عصر کی ایک خاص فضیلیت ہے۔ عصر کا ایک خاص وظیفہ ہے عصر کے وقت وظیفہ کرنا ہے۔ انشاءاللہ!آپ کے مال ، آپ کی آبرو اور آپ کی عزت بڑھےگی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *