ہر مرض سے شفاء کے لئے خاص عمل

سورہ فاتحہ میں ہر بیماری کی شفا ہے۔ تو اس کا دم کیسے کیا جائے گا؟ اور سر کے درد کے لیے کیا سر پر ہاتھ رکھ کر دم کرنا چاہیے؟بسم اللہ الرحمن الرحیم کے آخری میم کو سورہٴ فاتحہ کے لام سے ملاکر سات دفعہ پڑھ کر پانی وغیرہ میں دم کیا جائے اس طور پر کہ سانس کے ساتھ کچھ تھوک کے ذرات بھی پانی میں جائیں۔

جی ہاں! ایسا ہی اسلاف کا معمول رہا ہے۔بیماروں کی تیماری داری کرنا سنت بھی ہے اور مروجہ سماجی زندگی کے مطابق اعلٰی انسانی اور اخلاقی قدر بھی ۔ایک زمانہ تھا جب لوگ بیمار پرسی کے لئے خاص طور پر جاتے اور مریض کی صحت کے لئے بالخصوص دعا کرتے تھے ۔اگرچہ اب جو لوگ دین کے ساتھ جڑے ہیں وہ دست دعا بلند کرتے ہیں لیکن کسی بیمار کی مزاج پرسی کرتے ہوئے اسکی صحت یابی کے لئے دعا کرنا بہت بڑا ثواب کا م ہے ۔آج ہم آپ کو گنج العرش کی ایک دعا کے بارے بتاتے ہیں کہ اس کو بطور تسبیح پڑھنے والے کسی بیمار کے لئے دعا کریں تو اللہ اسکو شفا عطا کرتا ہے ۔جراثیمی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے اس دعا کو روزانہ ایک تسبیح پڑھ کر پانی پر پھونک کر پیا کریں تو اللہ کے حکم سے انہیں صحت کاملہ نصیب ہوگی۔

صحت کے مکمل بحال ہونے تک یہ عمل کرنا چاہئے۔ہر قسم کی بیماری کے لئے اس دعائے مبارکہ کو بکثرت پڑھنا چاہئے تاکہ اللہ کریم زندگی کو مرض سے بچائے رکھے۔جو لوگ دوسرے شہروں کا سفر کرتے اور دیار غیر جاتے ہیں انہیں اس تسبیح کو لازمی دھرانا چاہیے تاکہ وہ متعدی امراض سے بچے رہیں ۔سورہ فاتحہ شفا دینے والی سورت ہے۔اس کا ایک نام سورہ شفا بھی ہے۔نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ انہوں نے سانپ کے کاٹنے پہ دم کر ے پر صحابہ اکرام کے عمل کو پسند فرمایا۔یہ صحیح حدیث ہے۔سورہ فاتحہ کے فصائل میں بہت سی روایات ملتیں ہیں۔جن میں سے ایک مشہور روایت یہ بھی ہےآپ ﷺ نے فرمایا مجھے دو خزانے دیے گئے جو کسی اور امت کو نہیں دیے گۓ وہ سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیات ہیں۔سورہ فاتحہ کے مضامین پر غور کریں تو پته چلتا هے که یه بنیادی طور پر دعا هے۔اہیسی دعا جس کے نتیجے پورا قرآن اس امت پہ اتارا گیا۔جو منبع ہدایت،شفاء اور رحمت هے۔سورہ فاتحہ کو سورہ رقیہ بھی کہا جاتا ہے یعنی دم کرنے والی سورت یہ مسنون دم بھی ہے۔سورت فاتحہ سے شفاء حاصل کرنا مجرب ہے۔سوره فاتحه کو کس طرح پڑھا جاے؟مولاناابتسام الهی ظهیر کهتے هیں که اگرچه تعداد معین کرنا نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے

۔لوگوں کو معین تعداد اس لیے بتائی جاتی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔حافاظ محمد گوندلوی فرماتے ہیں کہنجب کوئی شخص موذی مرض کا شکار ہو جاۓ تو اسے چاہیے کہ وہ ۔سورہ فاتحہ کو سات سات بار پڑھے۔اور اکتالیس بار پڑھ کر پانی پہ دم کر کے پی لیں تو یہ بھی اچھا۔یہ دونوں مجرب ترین وظیفے ہیں۔مولانا عبدالستار حماد جو مفتی اعظم ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں جب بھی بیمار ہوا سورہ فاتحہ ،سورہ بقرہ کی پہلی پانچ آیات،آیت الکرسی اور چاروں قل سات سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا۔اللہ کے فضل سے کبھی گولی تک نہیں کھانی پڑی۔یہ یقین اور توکل کرنے والوں کا بیان ہے۔میری بہن کے گھر ایک عورت کام کرنے آتی تھی، جس کا بیٹا دماغی مریض تھا۔یہاں تک کہ وہ اسے لوگوں کے گھروں میں جا کر مارا کرتا تھا۔اس عورت نے یہ سورہ فاتحہ کا وظیفہ اکتالیس دن پڑھا۔فجر کی سنت اور فرض کے درمیان اکتالیس بار اورہ فاتحہ پڑھی۔اور وہ دماغی مریض اللہ کے حکم سے شفاء یاب ہوا۔یہ میرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے۔درد شقیقہ ایک موذی مرض ہے جن لوگوں کو ہوتا وہی جانتے یہ کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔دردشقیقہ کے لیے بھی سورہ فاتحہ مجرب ہے۔دو گلاس پانی لیں ۔

آنکھیں بند کر کے شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی یعنی دو نوں ہاتھوں کی دو دو انگلیاں دونوں پانی کے گلاس میں ڈال کر آنکھیں بند کر کے سات بار سورہ فاتحہ پڑھیں۔دو تین بار ایسے کرنے سے اللہ کے فضل سے بیماری دور ہوجاۓ گی۔سورہ فاتحہ درحقیقت موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے چاہے روحانی ہو جسمانی یا پھر نفسیاتی۔سورہ فاتحہ کو ان بیماریوں میں بھی اکسیر دیکھا گیا ہے جو لاعلاج ہیں۔کیسے آج کل کرونا وائرس وغیرہ جدید میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جو طب کی دنیا مہں چیلنج آ رہا وہ یہ کہ لوگوں پر ادویات اثر کرنا بند کر دے گیں۔ایسے مہں طب نبویﷺ سے علاج ہی واحد حل اور راستہ ہے۔ادویات بنانے والی کمپنیاں پیسہ بنانے کی خاطر انسانیت سے کھیل رہیں ہیں۔ادویات کے بہت سائئڈ ایفیکٹ ہیں۔ایک بیماری کی دوائی کھائی جاتی ہے تو دو اور لگ جاتیں۔ایک ڈاکٹر نے بڑی زبردست بات کہی کہ ہم ڈاکٹرز کے مریض کم اور کسٹمرز زیادہ ہیں۔ پاکستان میں بہت اللہ والے بھی اور پیسے والے بھی موجود ہیں کوئی تو ایسا ہو جو ملک بھر میں طب نبویﷺ سٹور کھولے تاکہ لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *