یہ الفاظ پڑھنے سے اللہ کی اسی وقت مدد نازل ہو جاتی ہے

پیارے دوستو قرآن ِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی ہر طرح سے رہنمائی فر ما ئی ہے۔ کہ بندے کو کن حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ پریشانی کی حالت میں کیا کریں۔ شر سے بچنے کے لیے کیا کرے۔ اپنے غموں سے نجات کیسے حاصل کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔ آج کی ویڈیو میں ہم آپ کو قرآن ِ پاک کی روشنی میں

ایسے کلمات کے بارے میں بتا نے جا رہے ہیں کہ جن کلمات کے پڑھنے سے آپ کو فوراً اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی۔ اور یہ کلمات ایسے کلمات ہیں کہ جن کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھا ئے ہیں ۔ یہ کلمات کو نسے ہیں اور اس سے اللہ کی مدد کیسے حاصل ہو سکتی ہے ۔ پیارے دوستو یاد رہے کہ شیطان کے وسوسے تمام گناہوں کی جڑ ہے ۔ یہ وسوسے ایسا شر ہیں جو انسان کے اندر مو جود ہیں اور یہ اس کے لیے اپنے اختیار سے باہر ہے اور یہ شیطان ِ وسواسی ہیں جو کہ انسان کی زندگی میں پریشانی کا باعث بنتے ہیں ۔ یاد رہے کہ دنیا میں شر کی دو ہی بڑی قسمیں ہیں ایک ضنو ب اور ما سل کا شر ۔ دوسرا مصائب اور تکا لیف کا شر۔ سورۃ علق میں مصائب اور تکالیف کے شر سے پناہ ما نگی گئی ہے۔ یعنی جادو اور نظرِ بد اور حاسد کے شر سے اور سورۃ الناس ضنو ب اور ماسل کے شر یعنی گناہوں اور نا فر مانیوں سے شر سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ جس کا اصل ہمیشہ شیطان کا وسوسا ہوتا ہے ۔ لیکن انسان کو اس کے اثرات روکنے کا اختیار حاصل ہے اور آ دمی اس پر غالب آ سکتا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وسوسا کیا ہے؟ تو اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے

کہ حضرت ابنِ عباس رضی تعالیٰ عنہ نے وسوسا کے بارے میں بتایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے چو گا لگا تا ہے ۔ اس وقت اگر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو وہ فوراً بھا گ جا تا ہے ورنہ بچے کے دل میں جم جا تا ہے۔ شیطان نہا یت غیر محسوس حصے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے جس کو شیطانی وسوسا کہا جاتا ہے۔ شیطان کے وسوسا تمام گنا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نا فر مانیوں کی جڑ ہے۔ یہ وسوسا ایک ایسا شر ہے جو خود انسان کے اندر موجود ہے ۔ اور اس کا تعلق انسان کے اپنے اختیار سے ہے۔ اسی لیے اس سے بچنے کا بھی وہی خود ذمہ دار ہے۔ کیو نکہ شیطان کا وسوسا اس وقت تک کچھ بھی نہیں کر سکتا جب تک آدمی خود اسکو قبول نہ کرے اور اس پر عمل پیرا نہ ہو۔

سورۃ ابراہیم کی آیت بائیس میں اللہ تعالیٰ کا فر ما ن ہے اور شیطان کا قول ہے اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا ہاں میں نے تمہیں گمراہی اور باطل کی طرف بلا یا تو تم نے جلدی سے اور بے دریغ میرا کہا ما ن لیا ۔ پس آج مجھے ملا مت نہ کرو ۔ بلکہ اپنے آپ ہی کو ملا مت کرو یاد رہے کہ شیطان کے دوسرے شر بھی ہے۔ روایات میں آ تا ہے کہ وہ چور بھی ہے ۔ لوگوں کے مال چراتا ہےوہ اس طرح سے کہ جس کھانے پینے کی چیز پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اس سے اپنا حصہ چرا لینے میں وہ کا میاب ہو جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *