معدے اور جگر کی گرمی کو ہمیشہ کے لیے ختم کریں صرف روزانہ تین گلاس پئیں بدن کی گرمی کا علاج

جگر اور معدے کی گرمی کا علاج بتادیں؟ یہ بڑا دلچسپ سوا ل ہے ۔ اور سب سےپہلے بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو سمجھنا چاہیے ۔ سوال کو سمجھاجائے۔ کہ یہ بہت سارے لوگ اس غلط فہمی کا شک.ار ہیں۔ کہ جگر اور معدے کی گرمی ہے۔ معدے کی گرمی کی وجہ معدے خراب ہے۔ بات یہ ہے

کہ معدے کی گرمی کی وجہ سے معدے خراب کبھی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ دوسروں لفظوں میں یہ سمجھاجائے کہ معدے میں گرمی کی کمی کی وجہ سے معدے خراب ہوتا ہے۔ معدے کی حرارت کا بیلنس جب ڈاؤن ہوجاتا ہے تو تیزابیت ہوتی ہے۔ یہ غذا کی نالی عموماً سکڑ جاتی ہے۔معدے سکڑ جاتا ہے۔ تیزابیت ، گیس کے اثرات شرو ع ہوجاتے ہیں۔ بہت سارے لوگ اس صورت میں بڑی عجیب وغریب چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ ہم آپ کو صرف ایک چیز ایسی بتائیں گے ۔ اور ساتھ میں اس کا طریقہ کار بتائیں گے آپ اس پر عمل کرکے دیکھیں ۔آپ کو سو فیصد رزلٹ ملے گا۔ ایک چیز ہے دیسی اجوائن۔ دوسری چیز ہے پودینہ خشک۔ اجوائن دیسی ، پودینہ خشک یہ دو چیزوں کا قہوہ بنا لیں۔ جب بھی کھاناکھالیں۔ تو کھاناکھانے کے بعد صر ف ایک کپ قہوہ پیا جائے ۔ پودینہ کی مقدار اجوائن دیسی سے تھوڑی سی زیادہ ہو۔ اور پودینے کی چٹنی بھی بنا کر استعمال کریں۔ یہ بھی بہت اچھا ہے۔ صرف پودینہ اور پودینے کے اندر زیادہ سے زیادہ سبز مرچ صر ف ایک ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیسری کوئی چیز استعمال نہ کریں۔

یہ مسلسل استعمال کریں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ معد ے کی گرمی ہوگئی ہے۔ وہ گرمی نہیں ہوتی وہ تیزابیت ہوتی ہے۔ معدے کی تمام مسائل کا حل ہوجائے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ نسخہ وہاں پر کمزور پڑ جائے گا۔ جہاں پر کوئی شخص اگر چائے کاعادی ہو۔ دہی استعمال کررہا ہو۔ لسی پی رہا ہو۔ مشروبات ،بوتلیں استعمال کررہا ہو۔ ٹھنڈی چیزیں مسلسل استعمال کرکے ، بادی چیزیں مسلسل استعمال کرکے اس کے معدے کا ستینا س ہوچکا ہو۔ ایسا مریض اگر کہے کہ مجھے اسی دن رزلٹ ملے تو یہ ٹھیک نہیں ہے غلط بات ہے۔ دوائی نے اپنا کام کرنا ہے۔ اجوائن اور پودینے کے قہوہ نے اپنا کام تو کرناہے لیکن ایسی صورت میں سب سے پہلے یہ ہے کہ ان اسباب سے جو وجوہات ہیں ان کو پیچھے کرے۔ پرہیز کرے ۔ پرہیز کرنے کے بعد یہ قہوہ استعمال کرے۔ مسلسل یہ قہوہ استعمال کرے ۔ بعض اوقات تو تین تین گھنٹے بھی ہمیں مریض کو استعمال کروانا پڑتا ہے۔ ہر تین تین گھنٹے بعد یہ ایک ایک کپ قہوہ پیتا رہے۔

جب تک اس کوڈکار نہیں آتا۔ پیٹ ہلکا نہیں ہوتا۔ کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ تب تک وہ تین تین گھنٹے جاری رکھے۔ فائدہ ہونے پر چار گھنٹے ، پھر پانچ گھنٹے ،پھر چھ گھنٹے بعد حتی ٰ صبح ، دوپہر اور شام پر آجائے۔ یعنی جب بھی کھاناکھائے تو کھانا کھانے کے بعد ایک کپ قہوہ پئیں۔ مریض کی سوچ سے بڑھ کر مریض کو اچھا رزلٹ ملتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *