رمضان کی 26 رات بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے سے کیا ملتا ہے

رمضان المبارک، رحمان کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا آسمان، بےپایاں رحمت کا سائبان اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر حقیقت کھل جائے اور اس کی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جائے جو فرشتوں کی آمد و رفت سے پیدا ہوتے ہیں

تو وہ دم بخود رہ جائے اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے۔رمضان میں رب تعالیٰ کے حکم سے، روزہ داروں کے لئے، فرشتے رحمتوں کے طباق اور سعادتوں کی سوغات لے کر، آسمان سے اترنا شروع ہو جاتے ہیں اور افطاری کے وقت ان پر یہ رحمتیں انڈیل دیتے ہیں، یہ سعادتوں سے بھرا ایسا بہار آفریں سماں ہوتا ہے جو اگر ان پر منکشف ہوجائے، تو وہ یہ تمنا کرنے لگ جائیں کہ کاش! سارا سال ہی رمضان بن جائے اور انہیں یہ سعادتیں اور برکتیں ہمہ وقت حاصل ہوتی رہیں۔بخشش و مغفرت کا جو باڑہ بٹتا ہے اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ہفتے کے چھ دنوں میں افطاری کے وقت روزانہ لاکھوں گناہگاروں کو بخش دیا جاتا ہے اور چھ دنوں میں جتنی تعداد کو بخشا ہوتا ہے، ان کی مجموعی تعداد کے برابر ساتویں دن خطاکاروں کو بخشا جاتا ہے اور گناہ مٹا کر، انہیں مغفور لوگوں کی صف میں شامل کردیا جاتا ہے۔غرضیکہ رمضان ایک ایسا ملکوتی اور نورانی مہمان ہے جو گناہگار خاکی انسانوں کے پاس آکر انہیں باطنی آلائشوں سے پاک کر دیتا ہے اور گناہوں کی گندگی سے پاک کر کے جنت میں رہنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ یوں تو رمضان کا سارا مہینہ ہی ان صفات و برکات سے معمور ہے مگر آخری دس دن، پہلے بیس دنوں سے بھی زیادہ اہمیت اور انفرادی شان رکھتے ہیں، جن

میں اعتکاف ہوتا ہے، شب قدر کو پانے کی کوشش کی جاتی ہے اور آخر میں صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں ایک خطبہ دیا، جس میں آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصہ رحمت، اور درمیانی حصہ مغفرت کے لئے ہے اور تیسرے حصہ میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے ۔اختصار کے ساتھ ان اعمال و عبادات کی تفصیل یہ ہے :رمضان المبارک کی آخری تہائی کے نو، دس دن مسلمانوں کے لئے خصوصی جہد و عمل اور توجہ و انہماک کے دن ہیں۔ بیس روز گزر جانے کے بعد یہ ماہ مبارک پابرکابِ مہمان کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے، گزرنے والا ایک ایک لمحہ اس کی روانگی و رخصت کی اطلاع دینا شروع کردیتا ہے۔ چونکہ یہ مہینہ برکتوں کا پایاں ناپذیر سمندر ہے، انعامات و سعادت کا کبھی خشک نہ ہونے والا سرچشمہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عطا یائے ربانی کا مظہر ہے،

اس لئے اس کی عظمتوں سے کماحقہ آگاہ نہ ہوتے ہوئے بھی اس کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے شایان شان طریقے سے الوداع کہنے کے طریقے تعلیم کئے گئے ہیں جیسا کہ استقبال کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ ناواقف و غافل بھی اس کی برکات سے محروم نہ رہے اور رمضان کے احترام کے صدقے اس کا بیڑا پار ہوجائے۔ چنانچہ احادیث کے مندر جات سے ثابت ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کی آخری تہائی میں پہلے سے بھی زیادہ پرشوق، تازہ دم اور سرگرم عمل ہو جاتے تھے، اس تہائی میں خوب ذوق و انہماک سے عبادت کرنے کے لئے پہلے ہی سے تیاری شروع فرمادیتے تھے اور جب یہ دن آجاتے تو آپ کی عبادت کے اعمال و اشغال میں نمایاں اضافہ ہوجاتا تھا۔جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے : جب آخری عشرہ شروع ہوتا ہے تو آپ کمر بستہ ہو

جاتے تھے، ساری رات جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے ۔ آخری عشرہ میں جتنی محنت فرماتے، باقی دنوں میں اتنی نہیں فرماتے تھے ۔ بعض اعمال کے لئے آخری عشرہ کو خاص فرما لیتے تھے اور مہینے کے باقی دنوں میں وہ اعمال نہیں فرماتے تھے ۔ رمضان کی چھبیس کی رات کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو کسی کورے کاغذ پر سیاہی سے لکھ کر رکھ لیں اور اس کی تعداد طاق ہونی چاہئے اور کم از کم 111 ہونی چاہئے یہ لکھنے سے پہلےطہارت کا اہتمام کر لیجئے اور باوضو ہو کر یہ لکھ لیجئے اور لکھنے سے پہلے اور بعد میں 11 بار درود پاک بھی پڑھ لیجئے اور پھر اس کاغذ کو پانی میں ڈال کر رکھ لیجئے اور اس پانی کا ایک گھونٹ روزانہ نہار منہ پیتے رہئے انشاء اللہ گ ن ا ہ و ں سے بچے رہیں گے توبہ پر استقامت ہو گی چہرہ نورانی ہوگا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *