رمضان کا صدقہ اور اسم اعظم

علم جفر کے حساب سے چاند سورج اور دوسری گرین کی حرکت کو دیکھتے ھوۓ چاند کے مہینے کا بھی مختلف صدقہ ہوتا ہے تو ویسے ہی دریچوں اور نصاب کے حساب سے اس رمضان کا صدقہ کسی کالی چیز کا ہو گاجیسے کہ کالے چنے کالی مرغی کالا بکرا وغیرہ اگر دامن میں وسط ہو تو کالا بکرالے

کے کسی مستحق کو دے دیں اگر دامن میں وسط کم ہے تو کالی مرغی اگر دامن میں وسط اس سے بھی زیادہ کم ہے حسب توفیق کالے چنے لے کے کسی مستحق کو دے دیں اللّه پاک کے کرم سے پورا مہینہ تمام مصیبتیں دور رہیں گی اور نظر حسد کے اثرات ختم ہو جائیں گےاس رمضان مبارک کا اسم اعظم یا اللّه یا رحمن 27 مرتبہ ہے یعنی روزہ رکھتے وقت ٢٧ مرتبہ اس اسم کو سحری پہ دم کر دیں یا گھر سے باہر نکلتے وقت ٢٧ مرتبہ اس اسم کو پڑھ کر دعا مانگ کر پھر باہر نکلیں اللّه کے فضل و کرم سے کامیابی کی راہیں منظر عام پر آئیں گی تمام پرشانیاں دور رہیں گی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مسلمان کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کس قدر سزا ہے تو کوئی بھی اُس کی جنت کی اُمید نہ رکھتا۔ اگر کافر کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کس قدر رحمت ہے تو کوئی (کافر) بھی اُس کی جنت سے نا اُمید نہ ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی (یعنی زندگی بھر گناہوں میں لت پت رہا)۔ جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر مجھے راکھ کر کے ہوا اور سمندر میں منتشر کر دینا کیونکہ بخدا اگر میرے رب نے گرفت کی تو وہ مجھے اتنا عذاب دے گا کہ کوئی کسی کو اتنا عذاب نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اُس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو نے (اُس کے ذرّات میں سے) جو کچھ لیا ہے اُس کو واپس کر دے، وہ شخص (سلامت ہو کر) کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھ کو اِس وصیت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا تھا، اُس شخص نے عرض کیا: اے رب! تیری خشیت نے یا اُس نے کہا: اے رب تیرے خوف نے۔ پس اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کی جب موت کا وقت آیا اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا تو اُس نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سا ایندھن اکٹھا کر کے آگ جلانا (اور مجھے جلا دینا)، جب آگ میرے گوشت کو جلا کر ہڈیوں تک پہنچ جائے تو میرے جسم کو لے کر پیس ڈالنا اور کسی گرم ترین دن میں یا جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اجزا کو جمع کیا اور فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے جواب دیا: محض تجھ سے ڈرتے ہوئے، پس اﷲ تعالیٰ نے اُس کی مغفرت فرما دی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *