زندگی بھر آپ سے نماز نہیں چھوٹے گی نیکی کا کام ، نماز پڑھنے کو دل نہیں کرتا زندگی میں یہ عمل شروع کر لیں

صرف تعویذ باندھنے اور وظیفہ پڑھنے سے سستی، کاہلی دور نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے فکر وکوشش، اور ہمت و حوصلہ بھی چاہیے، آپ اپنے خالہ زاد بھائی سے کہہ دیں کہ نماز کے اوقات میں نماز ادا کرنے کی پوری فکر کریں، آپ بھی یاد دہانی کرادیا کریں تاکہ غفلت نہ ہو اور نماز کے بعد بھی خبرگیری کرلیا کریں،

اگر وہ بھائی قریب رہتا ہو تو ساتھ مسجد لے جایا کریں، تھوڑے دنوں تک اس کے پیچھے محنت کریں توقع ہے کہ اس کو نماز کی پابندی نصیب ہوجائے گی، اسے یہ دعا پڑھنے کے لیے بھی کہہ دیں: یَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلبی علی طاعتک․ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازوں کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائے اور دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب کرے۔میں خود نماز کا پابند ہوں، لیکن میرے بھائی نماز کی پابندی نہیں کرتے اور مجھے اس پر بہت تشویش ہوتی ہے کہ وہ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔اللہ سے ان کے حق میں دعا کرتے رہیں اور بھائیوں کے ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں ،کبھی کسی دینی اجتماع میں،علماءِ کرام کے بیانات میں ساتھ لے جایا کریں، گھر میں مختصر (تین سے چار منٹ) تعلیم شروع کردیں، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی صاحب رحمہ اللہ کی مرتب کردہ ’’فضائلِ اَعمال‘‘ سے تعلیم کریں، خصوصاً اس میں فضائلِ نماز والے حصے میں نماز اور جماعت کی اہمیت و فضیلت سے

متعلقہ احادیث اور نماز اور جماعت ترک کرنے پر وعیدیں پڑھ کر حکمت کے ساتھ انہیں نصیحت کیجیے۔یہی طریقہ ہے ان کو نمازی بنانے کا ،محض وظائف سے لوگ نمازی بنتے تو دنیا میں کوئی بے نمازی نہ رہتا۔ باقی ان کے دل کی نرمی کے لیےعشاء کی نماز کے بعد 1400 مرتبہ یا ودود پڑھنے کا اہتمام کریں ۔جو شخص حقیقی معنوں میں اللہ تعالی پر ، اللہ کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان رکھے، اور اس بات پر بھی پختہ ایمان ہو کہ نماز کی ادائیگی فرض ہے، اور نماز کلمہ شہادت کے بعد سب سے عظیم ترین عبادت ہے، تو اس سے نماز ترک کرنا یا نماز کی ادائیگی میں سستی کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے شخص کو زندگی کا لطف اور زندگی سے مانوسیت بھی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ اس عظیم عبادت کو انجام دے اور اس کی مکمل پابندی کرے۔جس قدر بھی بندے کا ایمان زیادہ ہو گا، انسان اتنا ہی اللہ کے فریضے کا خیال رکھے گا، یہ خیال انسان کے ایمان کا حصہ ہے؛ اس لیے نماز کی پابندی کے لیے جو طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:سب سے پہلے آپ ایمان محکم رکھیں کہ نماز

فرض ہے اور یہ اسلام کا عظیم ترین رکن ہے، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ تارک نماز کو شدید ترین وعید سنائی گئی ہے، علمائے کرام کے صحیح ترین موقف کے مطابق تارک نماز شخص اسلام سے خارج ہے؛ کیونکہ اس بارے میں بہت سے دلائل موجود ہیں، ان میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان بھی ہے بیشک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فاصلہ ہےاسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے، چنانچہ جس نے نماز کو ترک کیا تو اس نے کفر کیایہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ نماز کو وقت ختم ہونے کے بعد تک مؤخر کرنا کبیرہ گناہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نمازیں ضائع کر دیں اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، وہ عنقریب غی میں پہنچ جائیں گے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت میں مذکور لفظ: غَيًّا کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ جہنم کی انتہائی گہری وادی ہے وہاں پر کھانے کو خبیث ترین چیزیں ملیں گی۔اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: ہلاکت ہے نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔ آپ مسجد میں با جماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں، کسی ایک نماز کے متعلق بھی سستی کا شکار مت ہوں،

یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ علمائے کرام کے صحیح ترین موقف کے مطابق نماز با جماعت فرض ہے، اس کے بہت سے دلائل ہیں، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے جو شخص اذان سنے اور نماز ادا کرنے کے لیے نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہے، الا کہ اس کا کوئی عذر ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے مسجد لانے والا کوئی شخص نہیں ہے، تو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی رخصت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں رخصت دے دی، جب وہ شخص واپس ہو لیا تو آپ نے اسے دوبارہ بلایا اور پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ تو اس نے کہا: جی ہاں! تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تو پھر نماز کے لیے آؤ۔ نماز کی پابندی کرتے ہوئے نیت یہ رکھیں کہ آپ ان سات لوگوں میں شامل ہو جائیں جنہیں اللہ تعالی اپنا سایہ نصیب فرمائے گا، ان افراد میں ایک وہ بھی شامل ہے جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہوآپ نماز با جماعت ادا کرتے ہوئے اجر

عظیم کی امید رکھیں، جیسے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاآدمی کی جماعت کے ساتھ نماز گھر میں یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد کی جانب چل پڑتا ہے اسے نماز کے سوا اور کوئی دوسرا کام گھر سے نہیں نکالتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھا دیا جاتا ہے اور ایک گ ناہ معاف کر دیا جاتا ہے ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو جائے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے مسلسل دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے۔ کہتے ہیں اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم کر ۔ اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہوتے ہو۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *