اور اب رخصتی کے دن قریب تھے کہ دلہن بننے والی کنول پر قیا مت ٹوٹ پڑی

پاپا جان میں پاس ہو گئی پا پا ڈاکٹر بن گئی میں۔ کنول بہت بہت خوش تھی ۔ وہ گھر میں داخل ہو تے ہی زور زور سے چلانے لگی پا پا میں پاس وہ گئی رزلٹ دیکھ کے آرہی ہوں مجھے ڈاکٹر کی ڈگری مل گئی ما ما پا پا بھائی بڑی بہن سب بہت خوش تھے سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے کنول کی محنت کا پھل اسے مل گیا تھا

باپ نے دوڑتے ہو ئے جا کر کنول کو با نہوں میں بھر لیا اور خوشی کا اس سے اظہار کر نے لگا میری بیٹی الحمد اللہ ڈاکٹر بن گئی سب بہت خوش تھے کنول کی خوشی تو گلاب کی سرخ پتیوں کی سی تھی ماں نے سینے سے لگا لیا میری بیٹی کو اللہ دنیا جہاں کی ہر خوشی دے ماں دعائیں دے رہی تھی کنول گا ئنا کا لو جسٹ میں اسپیشلسٹ کر کے آئی تھی وہ ایک ہسپتال میں جاب کرنے لگی بہت خوش تھی زندگی کے کچھ اصول ہیں۔ جن کو سب نبھاتے ہیں اور نہ چاہتے ہو ئے بھی نبھانے پڑتے ہی کنول کا نکاح اس کے پھو پھو کے بیٹے اسجد سے کروا دیا گیا کنول اس رشتے سے خوش تو نہیں تھی پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی تھی کنول اس نے ماں باپ کے فیصلے کو بہتر سے بہترین سمجھ کر قبول کر لیا اسجد کیینڈا میں رہتا تھا اسجد بھی پڑھا لکھا تھا دیکھنے میں بالکل کو ئی انگریز لگتا تھا پاکستان آیا دونوں فیمیلیز نے مل کر نکاح کی رسم ادا کی لیکن رخصتی کے لیے کنول نے دو سال کا

وقت مانگا، کنول دو سال ابھی شادی کی ذمہ داریاں نہیں نبھا نا چاہتی تھی نکاح کے بعد وہ کچھ وقت اپنے ڈیپا رٹمنٹ کو دینا چاہتی تھی۔ اسجد پاکستان آ یا نکاح کیا نہ اسے نکاح سے کو ئی اعتراض تھانہ رخصتی سے خاموش تھا بالکل جیسے وہ کسی مجبوری میں یہ رشتہ کر رہا ہو۔ کنول کو محسوس ہو رہا تھا اسجد کا لہجہ کچھ دن پاکستان میں آیا نکاح کیا نہ اسے نکاح سے کو ئی اعتراض تھا نہ رخصتی سے خاموش تھا بالکل جیسے وہ کسی مجبوری میں یہ رشتہ کر رہا ہو۔ کنول کا محسوس ہو رہا تھا اسجد کا لہجہ کچھ دن پاکستان میں رہنے کے بعد اسجد نے اپنی ما ما سے کہا مما مجھے واپس کینڈا جا نا ہے۔ اب شادی پہ آؤں گا ماں نے کہا بیٹا اسجد کچھ دن ہمارے پاس بھی رک جا یا کرو آتے ہو دس دن بھی نہیں رہتے اور واپس چلے جا تے ہو

جیسے مہمان ہو ہمارے اسجد خاموش رہا کنول سے ملنے آ یا کنول سے برداشت نہ ہو اس نے اسجد سے پو چھ لیا اسجد کیا تم خوش نہیں ہو ہمارے رشتے سے اسجد نے کہا میں نے ایسا کچھ کہا کنول بات کاٹتے ہوئے کہنے لگی لیکن اسجد تم اتنے خاموش اتنے بجھے ہوئے سے۔ اسجد مسکرانے لگا کنول زندگی ایسی ہی ہو تی ہے جو بچپن میں بہت شرارتیں کر تے ہوں با تیں کر تے ہوں وقت ان کو عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خاموش اور روکھے لہجے والا بنا دیتا ہے خیال رکھنا اپنا۔ شادی پہ اوں گا کنول نے جانے سے پہلے اسجد کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگی اسجد مجھے لینے اوگے نا اسجد نے مسکرا کر کہا پا گل تم اگر چا ہو تو ابھی ساتھ چلو میرے کنول کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *