اچھی صحت کے لئے سحری اور افطاری میں کیا کھانا چاہئے؟

رمضان المبارک میں دسترخوان نت نئے پکوانوں سے سجے ہوئے ہوتے ہیں۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی ان انواع واقسام کےپکوانوں سے ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے مگر صحت کے اصول سے یہ اچھی عادت نہیں ہے، اچھی صحت کیلئے ضروری ہے کہ اعتدال اپنایا جائے اوریک دم شکم سیری سے بچا جائے

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی گھروں اور باورچی خانوں کی رونق میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ فضا میں پھیلی کھانوں کی مسحور کن خوشبو اور پکوانوں سے سجے دسترخوان سحر و افطار کا لطف ومزہ دوبالا کر دیتے ہیں۔ رمضان میں کھانے کو چونکہ عبادت کا درجہ حاصل ہے لہٰذا سحر و افطار میں کھانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اپنے اپنے ذوق و شوق اور مزاج کے مطابق کچھ لوگ اس اہتمام میں سادگی پسند کرتے ہیں جبکہ بعض بڑھ چڑھ کر مختلف کھانوں اور پکوانوں کی تیاری میں مشغول رہتے ہیں۔ سحر و افطار میں جس طرح متوازن اور صحت بخش غذا ضروری ہے بالکل ویسے ہی کھانے میں اعتدال قائم رکھنا بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ رمضان میں زیادہ کھانا چاہئے تاکہ روزے رکھنے سے کمزوری نہ ہو، لیکن سائنسی تحقیق نے ثابت کر دیا

کہ روزہ رکھنے سے جسم کمزور نہیں ہوتا بلکہ ہمارے بدن میں ایسا میکنیزم پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آتا ہے اور بدن کی اضافی چربی کو مؤثر انداز میں ختم کر دیتا ہے۔ اب تو مغرب میں بھی روزے کی افادیت دیکھتے ہوئے اس کی طرز پر ڈائٹ پلان مرتب کئے جانے لگے ہیں۔ بہترین صحت کے حصول کے لئے رمضان میں کون کون سی غذائیں کتنی مقدار میں کھائی جائیں، اس سلسلے میں یہاں چند مفید مشورہ دیئے جا رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس پر عمل پیرا ہو کر آپ جسم و روح کا توازن برقرار رکھتے ہوئے روزے کے فیوض و برکات سے بہترین انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں سحری میں ہمیں ایسی خوراک لینی چاہئے جس میں کافی مقدار میں پروٹین، مفید کولیسٹرول اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہوں۔ یاد رکھئے، سحری کے کھانے میں چکنائی کم سے کم ہونی چاہئے۔ ایسی غذا ہرگز نہ کھائیں جو پیاس یا معدے میں جلن کا باعث بنے۔ سادہ غذ کھائیں اور مرچ مسالوں کا استعمال کم سے کم کریں۔ سحری کے لئے بہترین غذا یہ ہےگندم یا جو کی روٹی ایک سے دو عدد، دودھ ایک کپ، کسی بھی قسم کا سالن یا آملیٹ جو اولیو آئل میں بنا ہو، آخر میں پھل بھی کھائیں۔دودھ اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے گوشت کے برابر ہے اور ہر عمر کے لوگوں کے لئے یکساں مفید بھی۔ انڈا اور گندم کی روٹی دن بھر کے لئے پروٹین اور کاربوئیڈریٹس فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔افطار میں ایسی غذا کھانی چاہئے جو فوری توانائی بہم پہنچائے۔

ہمارے ہاں عموماً افطار کے وقت دسترخوان رنگ برنگے کھانوں اور مشروبات سے سجے ہوتے ہیں، لیکن بیک وقت اتنا کھانا نہ صرف صحت کے لئے مضر ہے بلکہ اس سے روزے کا اصل مقصد بھی قائم نہیں رہتا۔کھجوریں ۳؍ عدد، جوس ایک گلاس، ویجی ٹیبل سوپ یا پاستا ایک کپ، پکوڑے، چاٹ وغیرہ۔کھجور گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو جسم کو فوراً توانائی فراہم کرتی ہے۔ دن بھر کے دوران جو حرارے خرچ ہوتے ہیں یہ ان کا بہترین نعم البدل ہے اور جسم میں چستی و توانائی پیدا کرتی ہے۔ سوپ سے پانی اور نمکیات کی ضرورت بخوبی پوری ہوتی ہیں۔رات کے کھانے کو اپنی سہولت کے مطابق درج ذیل گروپس میں بانٹ لیں:مکس ویجی ٹیبل سیلڈ ایک کپ، ایک یا دو چمچہ زیتون بھی شامل کرلیں تو اچھا ہے۔ سبزیوں میں موجود فائبر، وٹامنز اور آئرن جیسے عناصر جسمانی کمزوری دور کرتے ہیں۔ کسی بھی قسم کے گوشت کا ایک سلائس اور کوئی سی بھی دال آدھا کپ۔گوشت اور دال کے استعمال سے جسم میں پروٹین، منرلز اور وٹامنز کی مقدار متوازن رہتی ہے۔گندم یا جو کی آدھی روٹی یا ایک کپ چاول۔گندم اور چاول ہمیں ضروری کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں۔ایک کپ دودھ، لسی یا مکھن وغیرہ۔دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیا جسم میں کیلشیم اور پروٹین کی کمی پوری کرتی ہیں۔افطار میں ایسے پھل بہترین ہیں جن میں سٹرس ایسڈ پایا جاتا ہو۔ پھلوں سے فوری توانائی ملتی ہے نیز پانی کی کمی بھی پوری ہوتی ہے۔ پھل ہمیشہ کھانے کے اختتام پر کھائیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *