حضرت معصب بن عمیر ؓ کا دل کو رُلا دینے والا واقعہ

ہمیں تو وہ کہانی بھی غربت کی یا د آتی ہے ۔ کہ جب احد کے قریب ستر شہیدوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ حضرت صفیہ حضورکی پھوپھی اپنے بھائی حمزہ کے لیے دو چادریں کفن کےلیے لاتی ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا جس قبر میں حمزہ کو دفن کیا جائے اسی قبر میں معصب بن عمیر کا کفن دیا جائے۔اور دفن کیا جائے۔

اور کہا کہ میرے چچاکےلیے ان کی بہن یعنی میری پھوپھی دو چادریں لے آئی ہیں ایک چادر معصب بن عمیر کو دیں۔ یہ معصب بن عمیر کون ہیں ۔ تاریخ پڑھیں۔یہ ایک دل آویز کہانی ہے۔مکہ میں ایک امیر ترین خاتون ہے جس کے بیٹے کا نامعصب ہے۔ اور وہ اپنے بیٹے کو اتنا خوبصورت لباس پہناتی ہے ۔اتنے خوبصورت خوشبو اور عطر لگاتی ہے۔کہ معصب بن عمیر جن گلیوں سے گزرتے تھے ۔ دیر تک وہ گلیاں مہکتی رہتی تھیں۔لوگ کہتے تھے کہ یہاں سے معصب گزر کر گیا ہوگا۔ اس لیے یہ گلیاں مہک رہی ہیں۔ جب حضور اکرم ﷺ کی نظر معصب بن عمیر پر پڑتی ہے تو معصب بن عمیر حضور اکرمؐ کی زلفوں کا اسیر ہوجاتا ہے۔ ماں کافرہ ہے اور اس کا لباس اور آسودگیاں بھی چھین لیتی ہے تووہ وقت آیا جب حضرت معصب بن عمیر حبشہ کی طرف ہجر ت کر جاتے ہیں۔مکہ کے حالات کچھ بہتر ہوئے تو حبشہ سے مکہ کی طرف پلٹے۔ ان کے بدن پر جو چادر تھی وہ جگہ جگہ سے

پھٹی ہوئی تھی۔ میرے آقا عالم ﷺ نے جب دیکھا تو ان کے آنکھوں سے آنسو ٹپک آئے۔اور کہا یہ وہی معصب ہے جو خوش پاش گزرتا تھا۔کہ مکہ میں میں نے اس سے خوبصورت شخص نہیں دیکھا۔ اور آج میرے معصب کے لیے جو چادر ہے وہ پھٹی ہوئی ہے۔ یہ غربت کی کہانی ہے جو احد کی لڑائی میں شہید ہوجاتے ہیں۔ اور ان کے لیے کفن بھی دستیاب نہیں ہے۔ حضور نے کہا کہ میرے چچا کے لیے جو دو چادریں لائی ہیں۔ ان میں ایک کا کفن معصب کو دے دو۔ اور دوسری چادر کاکفن میرے چچا کو دے دیا جائے۔حضرت معصب کے لیے بڑی چادر رکھ دی گئی۔اور حضرت امیر حمزہ کے لیے جو چادرتھی وہ چھوٹی تھی۔اگر سر ڈھانپتے تو پاؤن ننگے ہوجاتے۔ اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگے ہوجاتا۔ تو حضور اکرمؐ نے فرمایاکہ میرے چچا کا سر ڈھانپ لو۔ اور پاؤں کے اوپر اسخرنامی گھاس ڈال دو۔ جب حضور کے چچا کے لیے کفن دستیاب نہیں تھا اسلام اس وقت بھی عزت پاگیا۔ اسلام ذلیل نہیں تھا اور اسلام اس وقت بھی سربلند پاگیا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *