میرے خاوند کا کیا حق ہے میرے اوپر؟

آپ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا یارسول اللہ ﷺ میری شادی ہونے لگی ہے میرے خاوند کا کیا حق ہے میرے اوپر ۔میرے نبیﷺ نے فرمایا تیرے خاوند کے جسم پر پھوڑے نکل آئیں تیرے پھوڑے میں پیپ جمع ہوجائے اور تو زبان سے چاٹ چاٹ کے اس کے زخموں سے دھوئے تو بھی تو نے اپنے خاوند کے

حق کو ادا نہیں کیا ۔لائف کو بیلنس کیا میرے نبی نے کہ ایک گھر کیسے چلتا ہے اور کس طرح خوبصورت بنتا ہے وہ سب میرے نبی کے اخلاق ہیں برداشت کرنا سیکھ لیں زندگی خوبصورت ہوجائے گی ۔سارے اخلاق کو جمع کریں ایک لفظ میں تو برداشت بنتا ہے او ر شریعت میں اسی کو صبر کہتے ہیں ۔صبر کرنا سیکھ لیجئے زندگی خوبصورت ہوجائے گی۔ بچیاں ساس کی شکایت کررہی ہوتی ہیں کبھی خاوند کی شکایت کررہی ہوتی ہیں کبھی اولاد ماں باپ کی شکایت کررہی ہوتی ہے کبھی ماں باپ اولاد کی شکایت کررہے ہوتے ہیں شکایتوں سے بھراپڑا ہے جہان آپ شکایتوں کو دفن کر کے ہونٹ سی لیں صبر آہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں سینے پہ تیر کھائے جاآگے قدم بڑھائے جا یعنی زبان حال سے کہہ دے کہ ہاں ستائے جا جو ستاتا ہے چپ ہوجاؤ اللہ کی قسم آپ ایسی طاقت بنو گے کہ پہاڑ بھی راستہ دیں گے ،۔

سب سے مشکل رشتہ خاوند اوربیوی ہے سینکڑوں آیات اس کے لئے اللہ نے اتاری ہیں ماں باپ کے لئے چند آیات ہیں بہن بھائیوں کے لئے چند آیات ہیں خاوند اور بیوی کے لئے قرآن بھرا پڑا ہے پوری پوری سورت اتار ی ہے چونکہ اس رشتے کی اہمیت نزاکت اور کمزوری کہ کوئی رشتہ ٹوٹتا نہیں سوائے خاوند اور بیوی کے میں ماں کا بیٹاہوں اچھا ہوں یا برا ہوں انہی کا ہوں میرا نسب میری نافرمانی سے بدل نہیں سکتا ۔خاوند اور بیوی کا رشتہ ایک بول پر ٹوٹ جاتا ہے اس لئے اس کو بچانے کے لئے آیات آیات نازل فرمائیں میری نبی کی شادیاں کہ کس طرح ایک گھر کو لے کر چلتے ہیں کس طرح ہر مزاج کی عورت کے ساتھ سلوک کرتے ہیں جہاد کا سفر کاروباری سفر نہیں ہے۔

اور چلنے لگے اعلان ہوا کوچ کرو سب نے سواریاں کس لیں سامان کس لیا جونہی چلنے کا حکم ہوا تو حضرت عائشہ نے اپنا ہار گم ہونے کی خبر دی تو حضورﷺ نے قافلے کو کوچ کرنے سے روک لیا اور ہار ڈھونڈنے لگے یہاں تک کہ رات ہوگئی عشاء کی نماز پڑھ لی گئی اور پانی ختم ہوگیا اور صبح کے وضو کے لئے نہ بچا حضورﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ کو کچھ بھی نہ کہا اور صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ سے کہا کہ آپ کی بیوی کی وجہ سے یہاں پھنس گئے اور پانی بھی ختم ہوگیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ کے خیمے میں داخل ہوئے تو حضور اکرم ﷺ حضرت عائشہ کی گود میں سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ نے اشاروں سے حضرت عائشہ رضی اللہ کوخوب ڈانٹ پلائی اور واپس چلے گئے صبح کے وقت جب نماز کے لئے وضو کرنا چاہاتو پانی کی غیر موجودگی کی وجہ سے تمام صحابہ پریشان تھے تو تیمم کا حکم نازل ہوا بہر حال مختصرا یہ کہ ہار نہ ملا۔

اور حضرت عائشہ رضی اللہ نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہار نہیں ملتا بس قافلے کو چلنے کا حکم فرمائیے حضور ﷺ نے قافلے کو کوچ کا حکم فرمایا جب حضرت عائشہ رضی اللہ کی اونٹنی اُٹھی تو ہار اس کے نیچے سے ملا تو حضور ﷺ نے ہار اُٹھا یا اور حضرت عائشہ رضی اللہ کے حوالے کر دیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ سے کچھ بھی ناراضگی کا اظہار نہ فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ کی پوری پوری بات مانی ۔اس سے زیادہ کوئی دلداری کا واقعہ پیش کرسکتا ہے ۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *