رمضان کریم میں ہر مشکل ، مصیبت اور پریشانی کا حل تسبیح فاطمۃ الزھراء کے عامل بنیں

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فضائل و مناقب کا انکار کسی بشر کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ـ آپ کی عزت و عظمت و منزلت کے لئے یہ حدیث قدسی کافی ہے ـ اے میرے حبیب ﷺ اگر آپ نہ ہوتے تو افلاک کو خلق نہ کرتا اور اگر علی ؑ نہ ہوتے تو آپ کو خلق نہ کرتا اور اگر فاطمہ ؑ نہ ہوتیں تو

آپ دونوں کو خلق نہ کرتا ۔اس ارشاد رب العزت کے بعد کوئی ذی عقل و فہم شہزادی ء کونین و مادر حسنین علیہم السلام کے اس مقام و منزلت کا منکر نہیں ہوسکتا ۔ جو خداوند عالم نے آپ کو عطا فرمایا ہے ۔ شاید اسی لئے شہزادی ء دوعالم ؑ کے نام کا ورد بیماروں کے لئے شفا اور حاجت مندوں کے لئے در مقصود ہے ـ نیز آپ کے نام سے منسوب نماز کاپڑھنا ہر درد کے درمان کا وسیلہ اور آپ کی تسبیح گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے ۔تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا ایک ایسی مقدس عبادت ہے ۔ جس کا اندازہ کسی عام انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس کی اہمیت اور فضیلت کو صرف خاندان عصمت و طہارت علیھم السلام کی لسان وحی سے ہی سمجھا جاسکتا ہے ۔اس تسبیح سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے بیٹی ! تم کو وہ چیز عطا کررہا ہوں ۔ جو اس دنیا اور اس میں موجود ہر شئے سے افضل ہے ۔ ۔ جس کے بعد شہزادی نے تین مرتبہ فرمایا ۔ خدا کی قسم میں خدا اور اس کے رسول ﷺ سے راضی ہوں ۔تسبیح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی فضیلت کو اس بات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ روایات کے

مطابق قرآن مجید کے اس ارشاد۔ اذ کرو االلہ ذکراً کیثراً ۔ پر عمل کرنے کا بہترین ذریعہ تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کا پڑھنا ہے ـ اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ جو شخص سوتے وقت تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑھے ۔ اس کا شمار ، خدا کا ذکر کثیر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں ہوگا ۔ یہی سبب ہے کہ ہر واجب نماز کے بعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کا پڑھنا سب سے افضل تعقیب ہے ـ اسی لئے امام ؑ دوسرے مقام پر فرماتے پیں ۔ مجھے ہر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے کی بہ نسبت ہر نماز کے بعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کا پڑھنا زیادہ پسند ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ خدا کی حمد وثنا کے لئے تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے ۔ اور اگر اس سے بڑھ کر کوئی عبادت ہوتی !! تو اسے رسول مقبول ﷺ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عطا فرماتے ۔اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ جو کوئی نماز واجب کے بعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کو پڑھے ۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا داہنا پیر بائیں پیر سے اٹھائے خداوند عالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔ اس تسبیح کی

فضیلت کے سلسلے میں مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام یہ فرماتے ہیں ۔ سبحان اللہ کہنا آدھے میزان اعمال کو پر کرتا ہے ـ ۔ الحمد للہ کہنا پورے میزان اعمال کو بھر دیتا ہے اور اللہ اکبر کہنا زمین و آسمان کے بیچ کے حصے کو پر کردیتا ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ۔ جب کوئی تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کو پڑھ کر استغفار کرتا ہے ۔ تو وہ بخش دیا جاتا ہے اس تسبیح میں سو دفعہ ذکر خدا ہے ۔ جب کہ میزان اعمال میں ہزار ثواب رکھتی ہے ـ یہ شیطان کو دور کرتی ہے اور خدائے رحمان کو خوشنود کرتی ہے ۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : جب کوئی واجب نماز کے بعد سلام و تشہد کی حالت میں تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کو پڑھتا ہے ۔ تو خدا اس پر بہشت واجب کردیتا ہے ۔ دور حاضر کا سب سے اہم مسئلہ معاشرہ میں بڑھتی ہوئی گمراہی ہے ـ خصوصاً والدین ، اولاد کے مستقبل سے متعلق , بچیوں کے مناسب رشتے نہ ملنے کی وجہ سے بے پناہ فکر مند ہیں ـ جب کہ اس کا بہترین حل تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا ہے ـ اس لئے کہ یہ تسبیح لوگوں کو برے انجام سے بچاتی ہے ۔ رمضان المبارک میں تسبیح فاطمۃ الزہراء کے عامل بنیں ہر قسم کی مصیبت و پریشانی دور ہو جائے گی تمام تنگیاں ختم ہوجائیں مصائم و آلام سے نجات مل جائے گی اور رزق میں بھی بے حد وسعت ہو گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *