حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت خبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ ہر صبح اور شام کو آخری تین قل پڑھا کرو کیونکہ ۔۔۔؟؟

قرآن مجید کی آخری دو سورتوں ” سورت الفلق ” اور “سورت الناس” کو مشترکہ طور پر “معوذتین ” کہاجاتا ہے۔ اگر چہ قرآن مجید کی یہ آخری دو سورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں۔ اور قرآن مجید میں الگ الگ ناموں سے لکھی ہوئی ہیں۔لیکن ان کے درمیان اتنا گہرا تعلق ہے ۔ ان کے مضامین ایک دوسرے سے

اتنی قربت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترکہ نام”معوذتین “پناہ مانگنے والی دو سورتیں رکھاگیا ہے۔ امام بہیقی دلائل نبواء میں لکھا ہے یہ نازل بھی ایک ساتھ ہوئیں ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی “معوذتین ” ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات ” سورت اخلاص ،سورت الناس اور سورت الفلق ” پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مارتے ۔ پھر جب مرض الوفات میں آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی ۔ تومیں ان سورتوں کو پڑھ کر رسول اللہ ﷺ پر پھونکتی ۔ اور اپنے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ا ن سورتوں کے مزید فوائد جانتے ہیں۔ آنے والی زندگیوں میں ہمیں اور آ پ کو سینکڑوں فوائد پہنچے گے۔ سونے سے پہلے “معوذتین ” لازمی پڑھ لیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر رات جب بستر آرام فرماتے ۔ تو اپنی دونوں ہتھلیوں کو ملا کر “قل ھو اللہ احد” “قل اعو ذبر

ب الفلق” اور “قل اعوذ برب النا س” پڑھ کر ان پر پھونکتے۔ اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرے پر ہاتھ پھیر تے ۔ اور بدن کے سامنے یعنی بد ن کے اگلے حصے پر یہ عمل تین مرتبہ دہراتے ۔ علماء فرماتے ہیں کہ پڑھنا صرف ایک مرتبہ ہے۔ یعنی آپ نے ایک مرتبہ یہ تینوں سورتیں پڑھنی ہیں ۔ اور تین مرتبہ جسم پر ہاتھ پھیرنا ہے۔ اس طرح نبی کریمﷺ کے گھر میں اگر کوئی بیمار ہوتا تو آپ “معوذتین “پڑھ ان پر دم کرتے تھے۔ سورت الفلق اور سورت الناس کے ساتھ پناہ مانگنا ۔ حضرت اقباء بن عامر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جوفا اور اوا کے مقام پر حضور اکرمﷺ کے ساتھ چل رہا تھا۔ کہ اچانک ہمیں تیز ہوا اور تاریکی نے گھیر لیا ۔ تو رسول اللہﷺ سورت الفلق اور سورت الناس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے لگے۔ اور آپ فرماتے اے اقباء تم بھی ان دونوں کے ذریعے اللہ کی پناہ مانگو ۔ پس کسی بھی

پناہ مانگنے والے نے ان کی مثل سورتوں سے پناہ نہیں مانگی ۔ فرمایامیں نے رسول اللہﷺ کو ان دونوں سورتوں کی تلاوت کے ساتھ امامت کرواتے ہوئے سنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نماز اد ا فرمارہے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک زمین پررکھا۔ تو آپﷺ کو بچھو نے ڈس لیا۔ رسول اللہ ﷺ اسے اپنے نعلین مبارک سے مار دیا۔ پھر جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: بچھو پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ کہ وہ نمازی غیرنمازی یانبی یا غیر نبی کسی کو بھی نہیں چھوڑتا۔ پھرآپ ﷺ نے پانی اور نمک منگوایا اور ان کو ایک برتن میں ملایا۔ پھر اس کو اپنی انگلی پر بہانہ شروع کردیا۔ جہاں پر بچھو نے ڈسا تھا۔ اور اس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرنے لگے اور اس انگلی مبارک پر آپﷺ “معوذتین “پڑھ کر دم فرمانے لگے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *