تین رمضان جمعہ کو یہ وظیفہ لازمی کریں 10بار یہ الفاظ پڑھ کر دعا مانگو

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا کا جواب دے جب تک کہ وہ جلد باز نہ ہو ۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ

جلد بازی سے کیا مراد ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعا کو آرام سے پڑھنے کے بجائے جلدی پڑھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ جلد باز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور اسے جواب نظر نہ آئے اور وہ سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کا جواب نہیں دیگا اور پھر دعا مانگنا بند کردے ۔حضورنبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کا جوا ب دے گا ۔ مگر وہ دعا سے بددل نہ ہو ۔ مایوس نہ ہو لہذا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجانا اور یہ سوچ لینا کہ اللہ تعالیٰ دعا کا جواب نہیں دے گا ۔ جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں تو مانگتے رہیں اللہ تعالیٰ ضرور عطاء فرمائے گا ۔ مایوس نہیں ہونا ہمت نہیں ہارنی یہی سوچئے کہ وہی میرا مالک ہے وہی مجھے عطاء کرے گا وہی مجھے سب کچھ دے گا ۔ انشاء اللہ آپ کی ہر دعا قبول ہوگی ۔ایک آیت جس کا ترجمہ اے پیغمبر جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو کہہ دو میں تو تمہارے پاس ہی ہوں جب کوئی

پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ان کو چاہیے کہ وہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے تاکہ وہ ہدایت پا جائیں ۔ سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ اللہ رب العزت سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آدم کے بیٹے جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور مجھ سے اُمید رکھے گا میں تمہیں معاف کرتا رہوں گا چاہے تم سے کچھ بھی سرزد ہوتا رہے ۔ ابن آدم مجھے اس امر کی کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے گ ن ا ہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں لیکن تمہارے دامن پر میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو میں اتنی ہی مغفرت لیکر آؤں گا اور تمہیں معاف کردوں گا ۔ایک حدیث کا مفہوم ہے حضرت اُم سلمہ ؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے

اور عرض کیا مجھے ایسے کلمات سکھا دے جن کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کروں آپﷺ نے ارشاد فرمایا دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد اللہ اور پھر دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت کا سوال کرو تو اللہ تعالیٰ جواب میں ارشاد فرماتے ہیں میں نے تمہارا کام کردیا ۔ یہ بہت خاص اور چھوٹا سا عمل ہے کیونکہ نبی کریمﷺ کا فرمان جھوٹا ثابت نہیں ہوسکتا اگر آپ پورے یقین کیساتھ حاجت کو پورا کروانا چاہتے ہیں تو یہ عمل ضرور کریں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *