رزق اور حفاظت کے لیے آیت الکرسی کا وظیفہ

رزق اور حفاظت کے لیے آیت الکرسی کا وظیفہ آج کل ہر شخص دو وجوہات سے پریشان ہے وہ ہیں رزق حلال کی کثرت اور جنات سے حفاطت۔ یہ وظیفہ انہیں کے لیے ہے۔ یہ صحابی رسول کا مجرب کا عمل ہے۔ جب کسی شخص کے پاس دولت آتی ہے تو اردگرد کے لوگ اور رشتے دار جلن اور حسد محسوس کرنے لگتے ہیں

اور آپ کی ترقی کو روکنے کے لیے مختلف حربے کرنے لگتے ہیں جس میں سرفہرست جادو اور جنات ہیں یہ عمل حضرت محمدﷺ کے صحابی عبدالرحمن بن عوف کا معمول تھا یہ عمل حضرت محمدﷺ نے نہیں بتایا تھا لیکن وہ صحابی خود سے کرتے تھے اور اس وجہ سے ان کی روزی میں خوب برکت ہوتی تھی اللہ پاک نے انہیں بے پناہ رزق دیا ان کی وفات پر اتنا سونا نکلا کہ اس کو باقاعدہ کاٹنا پڑا اور سونے کوک۔اٹ کر ان کی بیوی اور اولاد میں تقسیم کیا گیا۔ اور وہ خود بھی کہا کرتے تھے میں مٹٰی پو بھی ہاتھ رکھوں تو اللہ پاک اسے سونا بنا دیتے ہیں۔ عمل یہ ہے کہ گھر کے چاروں کونوں میں ایک ایک بار آیت الکرسی پڑھ کردم کر دیں دن میں کریں یا رات میں کریں یا ایک دن میں کسی بھی وقت ایک بار لازمی کر لیں ۔ پورے گھر پر نہیں کر سکتے تو ایک ایک کمرے پر بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی دولت بھی ملے گی اور گھر کی حفاظت بھی ہو گی۔ عبداللہ بن ابی بن

کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو ایک دن انہوں نے اس میں کھجوریں کم دیکھیں ، وہ بیان کرتے ہيں کہ انہوں نے اس رات پہرہ دیا تورات ایک نوجوان کی شکل میں آیا میں نے اسے سلام کیا اوراس نے جواب دیا والد کہتے ہیں میں نے اسے کہا تم جن ہویا کہ انسان؟ اس نے جواب دیا کہ میں جن ہوں وہ کہتے ہیں میں نے اسے کہا اپنا ھاتھ دو اس نے اپنا ھاتھ دیا تووہ کتے کے ھاتھ کی طرح اور بالوں کی طرح تھا میں نے کہا کہ جن اسی طرح پیدا کیے گۓ ہیں ؟ وہ کہنے لگا کہ جنوں میں تومجھ سے بھی سخت قسم کے جن ہیں ، میں نے کہا کہ تجھے یہ( چوری )کرنے پر کس نے ابھارا ؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں یہ اطلاع ملی کہ آپ صدقہ وخیرات پسند کرتے ہیں توہم یہ پسند کیا کہ ہم تیرا غلہ حاصل کریں ۔عبداللہ بن ابی کہتے ہیں کہ اسےمیرے

والد نے کہا وہ کون سی چيز ہے جو ہمیں تم سے محفوظ رکھے ؟ اس نےجواب میں کہا یہ آیت الکرسی ہے ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گۓ اور سارا قصہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اس خبیث نے سچ کہا ہے ۔امام احمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن جعفر نے عثمان بن عتب سے حدیث بیان کی کہ عتاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوالسلیل کویہ کہتے ہوۓ سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی لوگوں کوحدیث بیان کیا کرتے تھے ، حتی کہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئ تووہ گھر کی چھت پر چڑھ جاتے اوریہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ : رسول
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے زيادہ عظمت کی حامل ہے ؟ تو ایک شخص کہنے لگا ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم ” وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ھاتھ میرے سینہ پررکھا توچھاتی پرمیں نےاس کی ٹھنڈک محسوس کی اورنبی صلی اللہ علیہ

وسلم یہ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم کی مبارک ہو ۔ابوذر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا توآپ مسجدمیں تشریف فرما تھے تومیں بھی بیٹھ گيا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر کیا تو نے نماز پڑھی ہے ؟ میں نے نہیں میں جواب دیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اٹھ کرنماز پڑھو ۔میں نے اٹھ کرنماز ادا کی اور پھر بیٹھ گيا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : اے ابوذر انسانوں اورجنوں کے شر سے پناہ طلب کرو وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کیا انسانوں میں بھی شیمطان ہوتے ہیں ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے جی ہاں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.