ایک ایسی دعا جو آپ کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دے گی۔

ایک ایسی دعا جو آپ کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دے گی۔صرف ایک عمل سے اگر آپ سو سال کے بھی ہو جائیں گے تو آپ صرف پچیس کے نظر آئیں گے ۔ایک ایسی دعا جسے اگر بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کریں گے تو بڑھاپے سے محفوظ رہیں گے اور اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائیں گے

۔آپ نے ایک چھوٹی سی دعا کو پڑھنا ہے ۔وہ دعا ہے “اللھم اعنی اعوذ بک من ارذل العمر “۔جب بھی آپ کھانا کھانے لگے تو کھانا کھانے سے پہلے آپ نے بسم اللہ پڑھنی ہے اور ساتھ گیارہ مرتبہ آپ نے اس دعا کو پڑھ لیا کرنا ہے ۔جو بھی کھائیں اس کے آنے سے پہلے آپ نے یہ دعا لازمی پڑھنی ہے اور باقاعدگی سے پڑھنی ہے ۔انشاءاللہ آپ بڑھاپے سے محفوظ رہیں گے بلکہ کسی کے محتاج نہیں ہوں گے ۔اس کے ساتھ ساتھ غم اور پریشانیوں کو سر پر حاوی نہ کریں ۔۔اپنی زندگی کو خوش ہو کر گزاری اور خدا کی رضا میں راضی رہیں ۔کیونکہ ہونا وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے ۔اگر ہم سب کچھ اللہ کی ذات پر چھوڑ دیں گے اور اچھا گمان کریں گے تو انشاء اللہ تعالی ہمارے لئے بہترین ہوگا ۔خوش رہے ہوش رکھے اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیں لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں بانٹے ۔ ب انسان کھانے پر کسی کی طرف سے مدعو ہو، اور کھانے کے بارے میں نہ جانتاہوتو میزبان

سے کھانے کی نوعیت کے بارے میں پوچھ سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے پیش کئے جانے والے کھانے کے بارے میں دلی اطمینان نہ ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت تک کھانا تناول نہیں فرماتے تھے جب تک آپکو کھانے کا نام نہ بتلادیا جاتا، اس بارے میں صحیح بخاری میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے -آپ رضی اللہ عنہا ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ لگتی ہیں۔ ان کے پاس بھنا ہوا سانڈا دیکھا، جو اِن کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لے کر آئی تھیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈا پیش کیا اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا ہاتھ کسی کھانے کی طرف بڑھاتے یہاں تک کہ آپکو کھانے کے بارے میں بتلا دیا جاتاکہ یہ کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سانڈے کی طرف بڑھایا، تو جو خواتین آپ کے پاس موجود تھیں ،ان میں

سے ایک نے آپ کو بتایا کہ جو آپ کی بیویوں نے پیش کیا ہے یہ تو سانڈا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سانڈے سے کھینچ لیا، تو خالد بن ولید نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) لیکن میری قوم کے علاقے میں یہ نہیں پایا جاتا اور میری طبیعت اسکو ناپسند کرتی ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کو کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طر ف دیکھ رہے تھے۔ بخاری ( 5391 ) اورمسلم ( 1946 ) ابن تین کہتے ہیں :آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے پوچھا کرتے تھے کہ عرب کسی چیز کو کھانے میں کراہت محسوس نہیں کرتے تھے، کیونکہ انکے پاس کھانے پینے کی قلت رہتی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ چیزوں سے کراہت محسوس کرتے تھے، اس لئے آپ پوچھ لیا کرتے تھے، اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ شریعت میں کچھ حیوانات حلال ہیں اور کچھ حرام ، اور عرب کسی جانور کو حرام نہیں جانتے تھے، تو جو چیز بُھون کر یا پکا کر پیش کی جارہی ہے اس کے بارے میں پوچھ کر ہی معلوم کیا جاسکتا تھا اس لئے آپ پوچھتے تھے۔” فتح الباری ” ( 9 / 534 )

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *