امام علیؑ نے رمضان کی بے حرمتی کرنیوالے کو عذاب سے کیسے بچایا؟

امیر المومنین حضرت امام علیؑ ایک با ر زیارت قبور کیلئے کوفہ کے قب۔رستان میں تشریف لے گئے وہاں ایک تاز ہ قب۔ر پر نظر پڑی تو دل میں اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش پیدا ہوئی چنانچہ بارگاہ خداوند عزوجل میں ۔عرض گزار ہوئے یا اللہ تعالیٰ اس م ی ت کے حالات مجھ پر ظاہر فرمادیں ۔ اللہ تعالیٰ

کی بارگاہ میں آپ کی التجا سنی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے حائل تھے تمام اُٹھا لیے گئے ابھی قب۔ر کا بھیانک منظر آپ کے سامنے تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں اور رو رو کر آپ ؑ سے اس طرح فریاد کررہا ہے اے علی ؑ میں آگ میں ڈوبا ہوا ہوں اور آ۔گ میں ج۔ل رہاہوں ۔ قب۔ر کے دہش۔ت ن۔اک منظر اور مردے کے دردناک پکار نے حضرت امام علیؑ کو بے قرار کردیا ہےآپ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہاتھ اُٹھا دیئے اور نہایت اور نہایت عاجزی کیساتھ اس م ی ت کی بخشش کیلئے درخواست پیش کی غیب سے آواز آئی اے علی ؑ اس کی سفارش مت کرو کیونکہ یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا اور رمضان المبارک میں بھی گ نا ا ہ و ں سے باز نہ آتا دن میں روزہ رکھ

لیتا لیکن راتوں کو گ نا ا ہ و ں میں مبتلا رہتا تھا ۔ مولائے کائنات حضرت امام علیؑ نے یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو کر عرض کرنے لگے یا اللہ میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے اس بندے نے بڑی اُمید کیساتھ مجھے پکارا ہے ۔ میرے مالک تومجھے اس کے آگے رسوا نہ فرما اس کی بے بسی پر رحم فرما دے اور اس بیچارے کو بخش دے ۔ حضرت امام علی ؑ رو کر مناجات کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی اے علی ؑ ہم نے تمہاری شکستہ دلی کے سبب اسے بخش دیا چنانچہ اس مردے پر سے عذاب اُٹھا لیا گیا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *