اگر آپ افطاری میں ٹھنڈا لیموں پانی یا لال شربت پیتے ہیں نبی پاکﷺ کا فرمان سن لیں

رمضان المبار ک میں افطار کے موقع پر مشروبات کا استعمال عام سی بات ہے ماہرین کہتے ہیں کہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد سوفٹ ڈرنکس اور کولا مشروبات کے بجائے گھر کے بنے ہوئے تازہ جوسز لیموں پانی وغیرہ کا استعمال کرنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ سارا دن روزے کی حالت میں ہمارا معدہ خالی

ہوتا ہے اس کے فوراً بعد ہم ایک کے بعد ایک گلاس پانی کا چڑھا دیتے ہیں وہ بھی لال شربت اور دوسرے سوفٹ ڈرنکس یا کولا ڈرنکس کے حوالے سے جو کہ بہت زیادہ معدے میں پہنچ کر تباہی کا باعث بنتے ہیں اور دن بدن ہماری کمزوری کیساتھ ہمارا معدہ اور ہماری صحت بھی گرتی چلی جاتی ہے ۔ رمضان بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے مگر روایت کے برخلاف اس مبارک مہینہ کی آمد کیساتھ لوگ اس فکر وپریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ تیس روزوں میں آخر سحر اور افطار کا انتظام کس طرح کیا جائے اور اس کو بہتر بنانے کیلئے مسلسل تگ ودو میں رہےت ہیں اور بد پرہیزی کا ایسا دور شروع ہوتا ہے جو یکم رمضان سے شروع ہوتا ہے اور اس کا اختتام مہینے کے آخر میں ہوتا ہے جس کا نتیجہ بیماری اور پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے ۔ اسی حوالے سے کچھ گزارشات او رمشورے ہیں کہ ہم اپنے سحر اور افطار میں کونسی غلطیاں کرتے ہیں جن میں پرہیز کرنے سے صحت کو ہونے

والے خطرات سے یقینی طور بچایا جاسکتا ہے ۔ اگر آپ روزانہ لال شربت پی کر افطاری کرتے ہیں تو ایسا بلکل مت کیجئے گا ورنہ صحت کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے ہمیں روزنہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ روزہ رکھنے کیلئے اچھی صحت کا ہونا اور جسم میں جان اور قوت مدافعت کا ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آٹھ سے دس روزے گزرنے کے بعد انسان اپنے جسم میں کمزوری کو محسوس کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اگر ہماری خوراک کا نظام اچھا نہ ہوگا تو ہم بیسویں روزے کے بعد بلکل ہی بستر پر لیٹ جائیں گے اور صرف عید اور چاند رات کا انتظار کریں گے ۔زیاد ہ تر لوگ افطاری کے وقت پیاس کی شدت کیوجہ سے شربت کا استعمال زیادہ کرلیتے ہیں اور خصوصی طور پر لال شربت کو فوقیت دی

جاتی ہے ۔ لال شربت سے مراد اس میں کوئی بھی کسی قسم کی چیز ڈال دیتے ہیں چاہے وہ روح افزاء یا جام شیریں کی شکل میں یا کسی اور شکل میں ہو کیونکہ عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ شربت میں نقصان کا عنصر انتہائی کم ہے اور بس دیکھتے ہی دیکھتے تین سے چار گلاس ہڑپ کرجاتے ہیں جو صحت کیلئے انتہائی مضر ہے اس میں چینی اور شربت کو میٹھا رکھنے والے عوامل جیسے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ روزے سحر اور افطار کے دوران پانی کی مقدار کو یقیناً بڑھانا ہے جسم میں پانی کی مقدار میں مکمل رکھنا ہے اس کے ساتھ یہ احتیاط کرنی ہے کس طریقہ سے پانی کو پیا جائے یعنی افطاری کے وقت اگر پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک سے آدھا گلاس مکمل طور پر پئیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *