اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ جانیے

سوال۔کیا عورت کی ختنہ بھی مسنون ہے؟ یا اس کی ختنہ کا حکم مختلف ہے؟ حدیث سے کیا کچھ معلوم ہوتا ہے؟ راہنمائی کیجیے۔جواب ۔فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی ختنہ کروانا کوئی واجبی تاکیدی حکم نہیں ہے، البتہ اس عمل کے سنت یا مستحب ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے، تاہم اتنی بات طے ہے کہ اگر ختنہ نہ کیا جائے

تو کوئی حرج نہیں ہے۔ابو داؤد شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کی ختنہ کرنے والی عورت کو یہ تاکید کی تھی کہ زیادہ کھال نہ کاٹا کرے، نیز ایک حدیث علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان منقول ہے کہ: مردوں کی ختنہ مستحب ہے اور عورتوں کی ختنہ باعث عزت ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کارواج نہیں ؛کیوں کہ اس کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔فقط واللہ اعلم ۔فتوی نمبر : 143807200033دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤناسلام آباد(قدرت روزنامہ) اسلام میں لڑکی کے ختنہ کا کیا حکم ہے؟ اسلام علیکم، میرا سب اہل علم بھائیوں سے سوال ہے کہ اسلام میں عورت کے ختنہ کا کیا حکم ہے؟اور کیا درج ذیل احادیث صحیح ہیں؟؟ میں نے چند روز پہلے بھی یہ سوال کیا تھا مگر میری پوسٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا .۔ کوئی لغو یا ف ح ش قسم کا سوال تو نہیں کر دیا میں جو پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا گیا .. “جس لڑکی کا ختنہ نہیں ہوا اس کا ایمان ناقص ہے” امیمہ کامل السلامونی، سابق مصری صدر محمد مرسی کی مشیر کا التحریر اخبار کو دیا گیا انٹرویو 9مئی 2012 عرب اور افریقہ میں عورتوں کا ختنہ کیا جاتا ہے اسلام میں عورتوں کے ختنہ کا تصور موجود ہے. اَلْخِتَانُ سُنَّة فی حقٌ الرِّجَالِ،و

مَکْرُمَة فی حقٌ لِلنِّسَاءِ»مسند احمد: ۵/۷۵. ”ختنہ مردوں کے حق میں سنت اور عورتوں کے حق میں اعزاز واکرام ہے.” سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1859 حدیث مرفوع مکررات 1 سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، عبدالوہاب بن عبدالرحیم اشجعی، مروان، محمد بن حسان، عبد وہاب کوفی، عبدالملک بن عمیر، حضرت ام عطیہ الانصاریہ سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک عورت ختنہ کیا کرتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جھکا کر ختنہ نہ کیا کرو کیونکہ اس طرح میں ختنہ کرنے میں عورتوں کرمزہ زیادہ آتا ہے اور شوہر کو اچھا لگتا ہے. 140 – لباس کا بیان : (205) وعن أم عطية الأنصارية أن امرأة كانت تختن بالمدينة . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم لا تنهكي فإن ذلك أحظى للمرأة وأحب إلى البعل .رواه أبو داود وقال هذا الحديث ضعيف وراويه مجهول . مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 391 اور حضرت ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جو (عورتوں کی ) ختنہ کیا کرتی تھی (جیسا کہ اس زمانہ میں عورتوں کی ختنہ کا بھی رواج تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن ) اس عورت سے فرمایا کہ ” ٹنہ کو ” زیادہ مت کاٹا کرو (بلکہ تھوڑا سا اوپر سے کاٹ دیا کرو ) کیونکہ یہ (یعنی زیادہ نہ کاٹنا ) عورت کے لئے بھی

بہت لذت بخش ہوتا ہے اور مرد کو بھی بہت پسندید ہوتا ہے (یعنی اگر اس کو زیادہ کاٹ دیا جائے تو ج م اع میں نہ عورت کو ل ذت ملتی ہے اور نہ مرد کو ) ۴/۵۴۳نے عورت کے ختنہ پر احادیث : «وَحَدِيْثُ خِتَانِ الْمَرْأَةِ رُوِیَ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيْرَةٍ ، وَکُلُّهَا ضَعِيْفَةٌ مَعْلُوْلُةٌ مَخْدُوْشَةٌ لاَ يَصِحُّ الْاِحْتِجَاجُ بِهَا کَمَآ عَرَفْتَ، وَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ : لَيْسَ فِی الْخَتَانِ خَبْرٌ يُرْجَعُ إِلَيْهِ وَلاَ سُنَّةٌ يُتَّبَعُ . وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِی التَّمْهِيْدِ: وَالَّذِیْ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ الْخَتَانَ لِلرِّجَالِ» ”اور عورت کے ختنہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو سب ضعیف معلول اور مخدوش ہیں ان سے حجت پکڑنا صحیح نہیں جس طرح آپ پہچان گئے اور ابن منذر نے کہا ختان میں کوئی حدیث ن ہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ کوئی سنت ہے جس کی پیروی کی جائے اور ابن عبدالبر نے تمہید میں کہا وہ چیز جس پر مسلمانوں کا اج م اع ہے کہ ختنہ مردوں کے لیے ہے. انتہی واﷲ اعلم روایت «الخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ ، وَمَکْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ» ”ختنہ سنت ہے واسطے مردوں کے اور کریمانہ فعل ہے واسطے عورتوں کے” کی بعض اسانید کوامام سیوطی نے حسن قرار دیا ہے مگر اکثر اہل علم اس کو ضعیف ہی قرار دیتے ہیں حتی کہ محدث وقت شیخ البانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ضعیف جامع صغیر اور سلسلہ ضعیفہ ہی میں ذکر فرمایا ہے رسول

اللہﷺ نے ختان کو خصال فطرت میں ذکر فرمایا ہے وہاں مرد کی تخصیص نہیں فرمائی صحیح بخاری کتاب المغازی باب قتل حمزۃ ۲/۵۸۳ میں ہے غزوئہ احد میں جب قتال کے لیے لوگ صف بستہ ہو گئے تو سباع نامی کافر نے نکل کر للکارا :«هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُوْرِ أَتُحَادُّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ . قَالَ : ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَکَانَ کَأَمْسِ الذَّاهِبِ» ”کیا کوئی ہے جو مجھ سے لڑے یہ سنتے ہی حمزہ بن عبدالمطلب اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور کہنے لگے ارے سباع ارے ام انمار (حجامنی) کے بیٹے تیری ماں تو عورتوں کے ٹنے تراشا کرتی تھی کمبخت نائن تھی اور تو اللہ ورسول سے مقابلہ کرتا ہے یہ کہہ کر حمزہ نے اس پر حملہ کیا اور جیسے کل کا دن گزر جاتا ہے اس طرح صفحہ ہستی سے اس کو نابود کر دیا” اس سے ثابت ہوتا ہے نزول شریعت کے زمانہ میں عربوں میں عورت کا ختنہ کیا جاتا تھا. لڑکیوں کی ختنہ کے متعلق. مسلمان شرعی ماہرین ابوداود والیم 3 حاشیہ 4257 صفحہ 1451 سے متفق نہیں ہیں. قرآن میں نہ اسکی تصدیق ہے اور نہ ہی اسکا منع کیا گیا ہے. موطاامام مالک 77.73.19.2 میں اس کا نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عورتوں کا ختنہ کیا جائے. جزاک اللہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.